وزیراعلیٰ خیبرپختونخواعلی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان کھربوں روپے کے قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ سابق حکومتوں کی ناقص پالیسیاں اور “پہلے سیاست بعد میں ریاست” کا رویہ ہے۔
علی امین گنڈاپورنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقتدارسنبھالنے کے وقت صوبے کی حالت نہایت ابترتھی اور ہمارے پاس محض 18 دن کی تنخواہوں کے اخراجات کے پیسے موجود تھے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے قومی خزانہ لوٹنے اورذاتی مفادات کے لیے خالی کرنے کی پالیسی اپنائی جس کے نتیجے میں آج ملک کو سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے مالی اکاؤنٹ کو مضبوط بنانے کے لئے دن رات کوششیں کی گئیں اور یہی وجہ ہے کہ صوبے کا اکاؤنٹ 30 ارب روپے سے بڑھا کر90 ارب روپے تک پہنچا دیا گیا ہے۔
علی امین گنڈاپورکا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت مشکل حالات کے باوجود مالی نظم وضبط قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرسابق حکومتیں ریاستی مفاد کو ترجیح دیتیں توآج پاکستان کواس معاشی بحران کا سامنا نہ ہوتا۔
بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پرستمبر میں جلسے کرینگے، بیرسٹرگوہر
موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کوریلیف فراہم کیا جائے اورصوبے کی معیشت کو مستحکم کیا جائے تاکہ آنے والے وقت میں پاکستان قرضوں کے بوجھ سے نکل کرترقی وخوشحالی کی راہ پرگامزن ہوسکے۔
