نئی دہلی: بھارت کے سابق آل راؤنڈر روی چندرن اشون نے ایشیا کپ میں برابری کے مقابلے پر سوالات اٹھا دیئے۔
سابق بھارتی آل راؤنڈر روی چندرن اشون نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایشیا کپ کا پہلا میچ افغانستان اور ہانگ کانگ کے درمیان ہوا جس میں ہانگ کانگ یک طرفہ طور پر بڑے مارجن سے شکست کھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایشیا کپ ٹورنامنٹ میں کسی کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ کیا کوئی ٹیم بھارتی ٹیم کو چیلنج کر سکتی ہے۔ اس ٹورنامنٹ میں مزید تبدیلیوں کی گنجائش ہے تاکہ ٹیموں کا آپس میں مقابلہ نظر آئے۔
روی چندرن اشون نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ میں جنوبی افریقہ کو شامل کر کے اسے افرو ایشیا کپ کا نام دیا جائے۔ تاکہ یہاں کوئی مقابلہ کی صورت نظر آئے۔ جبکہ بھارت کو بھی گروپ اے میں شامل کرنا چاہیے۔
بنگلہ دیش پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے پاس مقابلے کے لیے کچھ نہیں۔ وہ تو ابھی جہدوجہد کر رہے ہیں۔ تو اس ٹورنامنٹ میں بھارت کا مقابلہ کیسے کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ کا فاتح بھارت نظر آ رہا ہے تاہم ٹورنامنٹ کا ٹائٹل کسی اور ٹیم کے نام ہونا چاہیے تاکہ کوئی مقابلے کی صورت نظر بھی آئے۔ اور مجھے امید ہے کہ یہ ٹورنامنٹ بھارت کے علاوہ کوئی اور ٹیم جیتے گی۔ ہم نے بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن پر بات ہی نہیں کی۔ کیونکہ بھارتی ٹیم میں میچ جتوانے والوں کی بھرمار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے پاس اب وہ کھلاڑی نہیں جو پاکستان سے میچ نکال کر لے جاتے تھے،کامران اکمل
روی چندرن اشون نے کہا کہ سری لنکا ایشیا کپ ٹی 20 کا دفاعی چیمپئن رہا ہے۔ جبکہ بھارت اب تک 8 بار ایشیا کپ کا ٹائٹل اپنے نام کر چکا ہے۔
