غزہ پراسرائیلی فوج کی شدید بمباری کا سلسلہ بدستور جاری ہے، تازہ فضائی حملوں میں 50 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ درجنوں زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔
بدھ کو اسرائیلی طیاروں نے ایک اونچی رہائشی عمارت کو مکمل طورپرنشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی خاندان ملبے تلے دب گئے، اسی روزایک اسکول کے باہر بھی میزائل حملہ کیا گیا، جس میں 7 بچے شدید زخمی ہوئے۔
ہزاروں خاندان مسلسل شمالی علاقوں سے جنوب کی طرف نقل مکانی پرمجبور ہیں،غزہ کی تباہ حال صورتحال کے باعث بنیادی سہولیات ناپید ہوچکی ہیں۔
ادویات اورعلاج کی کمی کے ساتھ ساتھ پانی اورخوراک کی قلت بھی بڑھتی جا رہی ہے، الجزیرہ کے مطابق صبح سے اب تک کے حملوں میں 50 سے زیادہ شہادتیں ہوئیں جبکہ زخمیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ادھر بھوک اور غذائی قلت بھی فلسطینیوں کی جانیں لینے لگی ہے، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایک بچے سمیت 5 فلسطینی خوراک نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔
اس طرح غذائی قلت سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 400 سے تجاوز کرچکی ہے جن میں 141 بچے شامل ہیں۔
چند ہفتوں کے دوران اسرائیل کے چھ اسلامی ممالک پر حملے
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غذائی قلت 5 سال سے کم عمر فلسطینی بچوں کی زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ عالمی ادارے نے فوری امداد کی اپیل کی ہے تاکہ انسانی المیے کو روکا جا سکے۔
