ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس وقت کرپٹوکرنسی غیر قانونی نہیں بلکہ گرے ہے، ہمارے نوجوان اس میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں ہوا،اس موقع پر شرکاء کو ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بریفنگ دی۔
سینیٹر محسن عزیز نے اجلاس میں کہا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں کرپٹوکرنسی اغوا برائے تاوان کےلیے استعمال ہو رہی ہے، اب کوئی بھی مغوی سے نقد رقم نہیں مانگتا۔
چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کرپٹوکرنسی کی ڈیلنگ ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے ہورہی ہے، ہنڈی اور حوالہ تو غیرقانونی ہے تو پھر کرپٹو کی ڈیلنگ کیسے گرے ہوگئی؟
انہوں نے کہا کہ یہ بل اس لئے لایا جارہاہے کیونکہ کرپٹو میں پاکستانیوں کی سرمایہ کاری 8ویں نمبر پر ہے، بورڈ ممبران کی تقرری کی اہلیت بل میں ہونی چاہیے، قواعد میں نہیں۔
بھارت کے پاس اب وہ کھلاڑی نہیں جو پاکستان سے میچ نکال کر لے جاتے تھے،کامران اکمل
کنسلٹنٹ وزارت قانون نے کہا کہ اس بل کے تحت آزاد بورڈ قائم کیا جائے گا، بورڈ ممبران کی تقرری میں تکنیکی افراد کو شامل کرنے کےلیے ترامیم کی گئی ہیں۔
اس موقع پر سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ بورڈ ممبران کےلیے ٹیکنالوجی، فنانس اور ریگولیٹری افیئرز میں ایکسپرٹ ہونا ضروری ہے۔
