اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ملک میں زرعی اور موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے پیش نظرملک بھر میں کلائمیٹ ایمرجنسی اورزرعی ایمرجنسی کے نفاذ کی اصولی منظوری دی گئی، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اورمتعلقہ حکام پر مشتمل ایک خصوصی اجلاس بلانے کا اعلان بھی کیا۔
کابینہ کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں، زرعی زمینوں اورفصلوں کے نقصانات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، ارکان نے متاثرہ علاقوں میں انفراسٹرکچرکی بحالی، کسانوں کی معاونت اورنقصانات کے ازالے کیلئے مختلف تجاویزپیش کیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ راتوں رات ممکن نہیں اوراس کیلئے بہت بڑے چیلنجزدرپیش ہیں، جن کا سامنا حکومت اورعوام کو مل جل کر کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں حالیہ سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے اور ہزاروں ایکڑزرعی اراضی زیرآب آ چکی ہے، حکومت ان نقصانات کا تخمینہ لگا رہی ہے تاکہ کسانوں کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
وزیراعظم نے دوحہ میں اسرائیلی بمباری کی بھی شدید مذمت کی اور قطرکے امیر، شاہی خاندان اورعوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہارکیا۔
عوامی ریلیف کے لئے کابینہ نے وزارت پیٹرولیم کی سفارش پرگیس کنکشن کے منتظرصارفین کو آر ایل این جی کنکشن فراہم کرنے کی منظوری دی۔
کابینہ نے وزارت ریلوے کی سفارش پرازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے مابین مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے لیے سہ فریقی فریم ورک معاہدے کی بھی توثیق کی جوعلاقائی تجارت اوررابطہ کاری کے لیے اہم قراردیا گیا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں 37 سال بعد بڑی تبدیلی
اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی، بین الحکومتی تجارتی لین دین کمیٹی اور قانون سازی کمیٹی کے فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔
