لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے سولر انرجی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیا فیصلہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب صرف اے ایم آئی میٹر ہی سولر کنکشنز کے ساتھ لگائے جائیں گے۔
کمپنی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سولر صارفین کیلئے اے ایم آئی میٹر کی تنصیب لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میٹر کی قیمت 70 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جو اس سے قبل تقریباً 35 ہزار روپے تھی۔ قیمت میں اس اضافے کے بعد سولر صارفین کو دگنا بوجھ برداشت کرنا ہوگا۔ مزید یہ کہ نئے سولر کنکشنز کی درخواستوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ یہ اقدام وزارتِ توانائی کی ہدایات پر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، صوبے میں سولر پینلز کی چوری کے انکشافات نے صورتحال مزید سنگین کردی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق صرف ضلع راجن پور کے 50 اسکولوں سے 2022 اور 2023 کے دوران سولر پینلز غائب ہوگئے۔ پنجاب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
اجلاس کی صدارت کرنے والے تنزیل اسلم ملک نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ تعلیمی اداروں میں نصب ہونے والے قیمتی پینلز کی چوری انتظامیہ کی غفلت کا نتیجہ ہے۔
وفاقی کابینہ نےگیس کے نئے کنکشن پر عائد پابندی ختم کردی
پی اے سی نے محکمہ تعلیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے معاملے کو ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز پر ڈالنا درست نہیں۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ فوری طور پر یہ تعین کیا جائے کہ کل کتنے اسکولوں کے پینلز چوری ہوئے، کتنی بحالی ہوئی اور ذمہ داران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔
یہ تمام پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کی بات کر رہی ہے لیکن دوسری جانب قیمتوں میں اضافہ اور چوری کے واقعات عوام میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں۔
