ایشیا کپ (asia cup 2025)میں شریک دو اہم ٹیموں سری لنکا اور افغانستان کے کپتانوں نے میچز اور سفر کے غیر متوازن شیڈول پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے قائدین کا کہنا ہے کہ پے درپے میچز اور مسلسل سفر کھلاڑیوں کی کارکردگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ضمانت خارج ہونے پر داؤد خان جتوئی گرفتار
سری لنکا کے کپتان چارتھ اسالنکا نے واضح الفاظ میں کہا کہ کھلاڑیوں کو اتنی کم مدت میں آرام کے مواقع فراہم نہ کرنا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’زمبابوے میں دو دن میں دو میچز کھیلنے کے بعد براہ راست دبئی کا سفر انتہائی تھکا دینے والا تھا۔ ایسے حالات میں کھلاڑیوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، انہیں مناسب وقفہ ضرور ملنا چاہیے تاکہ جسمانی اور ذہنی طور پر تازہ دم ہو سکیں۔‘‘
عالمی سطح پر معاشی بے یقینی اور جغرافیائی تنازعات سونے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ قرار
دوسری جانب افغانستان کے کپتان راشد خان نے بھی شیڈول کی سختیوں کو تسلیم کیا، راشد خان کے مطابق، ’’یقیناً شیڈول ہمارے لیے مثالی نہیں ہے لیکن شکایات میں وقت ضائع کرنے کے بجائے توجہ صرف کھیل اور کارکردگی پر ہونی چاہیے۔ اگر ہم گرمی یا سفر کی باتوں میں الجھ گئے تو اس کا اثر براہ راست ہماری پرفارمنس پر پڑے گا۔ پروفیشنل کرکٹرز ہونے کے ناطے ہمیں ہر حال میں سو فیصد دینا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں دبئی میں ٹھہرایا گیا ہے لیکن تینوں میچ ابوظبی میں کھیلیں گے۔ یہ صورتحال آسان نہیں ہے، لیکن پروفیشنل کی حیثیت سے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سیلاب کے اثرات: باستمی چاول کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
ٹورنامنٹ کے شیڈول کے مطابق، سری لنکا کو اپنے پہلے میچ سے قبل چار دن کا وقفہ دیا گیا ہے، جبکہ افغانستان کی ٹیم کو صرف 48 گھنٹے کے اندر دوبارہ میدان میں اترنا پڑا۔
ماہرین کے مطابق، شدید گرمی اور تھکن کا یہ امتزاج ٹورنامنٹ کے نتائج پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
