اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج نے کہا ہے کہ بچوں کے لنچ بکس چیک کرنے ہوں گے کہ کہیں کوئی چیز باہر سے تو نہیں آ رہی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے وزارت داخلہ، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور پولیس سے رپورٹس طلب کر لیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ جنوری سے ستمبر تک منشیات روکنے کے اقدامات کی رپورٹ دو ہفتوں میں پیش کریں۔
اسلام آباد پولیس کی یکم جنوری سے 22 اپریل 2025 تک کی پیشرفت رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ جس میں کہا گیا کہ جنوری سے اپریل تک اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے 255 کلوگرام ہیروئن پکڑی گئی۔
وزارت داخلہ حکام نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ عدالتی حکم کے بعد اسکولوں میں آگاہی مہم چلائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں پہلا اسمارٹ سٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کرنے کا اعلان
جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے ریمارکس دیئے کہ صرف آگاہی سے کام نہیں چلے گا۔ اس کی مانیٹرنگ بھی کرنی ہو گی۔ بچوں کے لنچ باکس چیک کرنے ہوں گے کہ کہیں کوئی چیز باہر سے تو نہیں آ رہی۔
ڈی ایس پی لیگل نے کہا کہ منشیات کے خاتمے سے متعلق اسلام آباد پولیس کا سلوگن بھی جاری ہوا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سلوگن پورا پاکستان سنتا ہے پریکٹیکل کر کے دکھانا ہو گا۔ ایس ایچ او کا کام ہے اپنے علاقے کو چیک کرنا ہے۔ یہ نہیں کہ پٹیشن آ گئی تو تب کام شروع کیا۔ اچھی باتیں سارے کر رہے ہیں عمل درآمد کر کے دکھانا ہو گا۔
پیرا کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پرائیویٹ اسکولوں کی تنظیم (پیرا) نے منشیات کے خاتمے کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔
