کٹھمنڈو، نیپال کے وزیر داخلہ نے ملک بھر میں جاری شدید عوامی مظاہروں پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
نیپالی خبرایجنسی کے مطابق مظاہرین حکومت کی معاشی پالیسیوں، مہنگائی اوربدعنوانی کے خلاف سڑکوں پرنکل آئے تھے، جس کے بعد امن وامان کی صورتحال بگڑتی گئی۔
نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی کیخلاف ہنگامے ، 19 افراد ہلاک ، 100 زخمی
دارالحکومت کٹھمنڈومیں پُرتشدد جھڑپوں اورعوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات کے بعد حکومت نے شہر میں غیرمعینہ مدت کیلئے کرفیونافذ کر دیا ہے، فوج اورنیم فوجی دستے اہم سرکاری عمارتوں اورچوراہوں پرتعینات کردیئے گئے ہیں۔
وزیر داخلہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ استعفیٰ صدر کو پیش کر دیا گیا ہے، جسے منظورکرلیا گیا ہے، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت شدید دباؤ کا شکارہے اورمزید استعفے بھی متوقع ہیں۔
ڈرائیونگ لائسنس کا حصول اب کیمرے کی آنکھ کے بغیر ممکن نہیں
نیپالی وزیراعظم نے قوم سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوامی مطالبات پرغورکرنے کے لیے تیار ہے، ملک بھرمیں صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔
