سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس میں کورٹ فیسوں میں اضافے سے متعلق ترامیم کا نفاذ موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، رولز کمیٹی کی سفارشات کا جائزہ لیکر منظوری فل کورٹ دے گی۔
اجلاس میں طے پایا کہ رولز فل کورٹ کی منظوری سے مشروط ہوں گے، جہاں ضروری ہو گا رولز میں ترمیم کی جائے گی۔
اعلامیہ کے مطابق عدالت عظمیٰ کا 156 واں فل کورٹ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہوا ،عدالتِ عظمیٰ کے معزز ججز فل کورٹ اجلاس میں شریک ہوئے۔
سپریم کورٹ کے 4 ججز کا فل کورٹ اجلاس میں شرکت سے انکار ، چیف جسٹس کو ایک اور خط لکھ دیا
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس نے رولز میکنگ کمیٹی کی کوششوں کو سراہا، کمیٹی نے رولز 1980 کے جائزے پر کام کیا، ججز اور وکلا کی رائے سے جامع ڈرافٹ تیار کیا گیا، جسٹس شاہد وحید نے فل کورٹ کو رولز پر بریفنگ دی۔
فل کورٹ نے مختلف تجاویز اور مشاورت پر اتفاق کیا ، سپریم کورٹ رولز 2025 کو لِوِنگ ڈاکومنٹ قرار دیا گیا، رولز کا جائزہ اور ترامیم وقتاً فوقتاً جاری رہیں گی۔
سپریم کورٹ میں اینٹی کرپشن ہیلپ لائن قائم، اے آئی کا استعمال ہونا چاہیے ، چیف جسٹس
اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ رولز میں ترامیم سے عدالتی فیسوں اور سکیورٹیز میں آسانی ہو گی، کمیٹی نے ججز اور وکلا کی سفارشات کو جامع شکل دی، فل کورٹ نے سپریم کورٹ رولز 2025 متفقہ طور پر منظور کیے۔
اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے رولز کی تیاری پر کمیٹی کو خراج تحسین پیش کیا، رولز میں ترمیم عدلیہ کے ادارہ جاتی فریم ورک کو مضبوط کرے گی، سپریم کورٹ رولز جدید تقاضوں کے مطابق بنائے گئے ہیں، رولز متحرک، جوابدہ اور وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہیں گے۔
