جاپان نے انٹرنیٹ کی رفتار کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے، یہ ریکارڈ 1.02 پیٹابٹس فی سیکنڈ تک پہنچ گیا ہے۔
جاپان نے 1.02 پیٹا بٹس فی سیکنڈ (Pbps) کی حیران کن رفتار حاصل کر کے انٹرنیٹ اسپیڈ کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیاہے، جو ڈیٹا ٹرانسفر کی صلاحیت میں ایک بڑی چھلانگ ہے۔
پاکستان میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے کا خدشہ ہے، پی ٹی سی ایل
یہ نئی ٹیکنالوجی اس قدر تیز ہے کہ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں 100 جی بی کی فائل ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے، جاپان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (NICT) نے یہ ریکارڈ قائم کیا ہے۔
1.02 Pbps کی رفتار اتنی زیادہ ہے کہ یہ ایک سیکنڈ میں نیٹ فلکس کا پورا مواد ڈاؤن لوڈ کر سکتی ہے، 100GB کی فائل صرف ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے، یہ تحقیق ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے حجم کو سنبھالنے اور مستقبل کے انٹرنیٹ کے لیے تیز ترین رابطے فراہم کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ یہ امریکہ میں دستیاب انٹرنیٹ کی اوسط رفتار سے چالیس لاکھ گنا زیادہ تیز ہے۔
فیس بک نے اپنے پرانے فیچر پوک کو نئے انداز میں متعارف کرا دیا
جاپان کے این آئی سی ٹی کے مطابق ہمارا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ موجودہ انفراسٹرکچر کا استعمال کرتے ہوئے طویل فاصلے پر بھی انٹرنیٹ کی انتہائی تیز رفتار حاصل کی جا سکتی ہے۔یہ کارنامہ NICT کی Photonic نیٹ ورک لیبارٹری نے Sumitomo Electric اور یورپ کے محققین کے اشتراک سے حاصل کیا۔
اس تجربے میں محققین نے 19 لوپس کے ذریعے سگنل بھیجے جن میں سے ہر ایک 86.1 کلومیٹر طویل تھا اور یہ سفر اکیس بار دہرایا گیا۔ مجموعی طور پر محققین کے بھیجے گئے سگنلز نے 1,808 کلومیٹر کا سفر کیا اور 180 مختلف ڈیٹا اسٹریمز کو منتقل کیا۔ فی کلومیٹر فی سیکنڈ منتقل ہونے والے ڈیٹا کی کل مقدار 1.86 ایگزابٹس تک پہنچ گئی، جو اب تک کی سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی قدر ہے۔
