چین میں 50 سالہ معذور خاتون نے اپنے بیٹے کی ناکامی کے بعد وہی کتابیں پڑھ کر لاء کے امتحان میں کامیابی حاصل کر لی۔
مقامی میڈیا کے مطابق معذور خاتون کا نام یانگ ہے، جنہیں یونان صوبے کی ساؤتھ ویسٹ فاریسٹری یونیورسٹی میں ماسٹرز ان لاء کے پروگرام میں داخل کر لیا گیا ہے۔
یانگ نے داخلے کے لئے دو مرتبہ ٹیسٹ دیا اور بالآخر کامیابی حاصل کی، وہ اس سے پہلے کیمسٹری میں گریجویشن کر چکی ہیں، تاہم 2013 میں لگنے والی آگ نے ان کی زندگی بدل دی۔
میں بھی مارک زکربرگ ہوں, امریکی وکیل نے میٹا کے سی ای او کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا
حادثے کے بعد وہ شدید ڈپریشن اور PTSD میں مبتلا رہیں اور نوکری بھی چھوڑنا پڑی اور کچھ سالوں سے پنشن لے کر گزارا کر رہی تھیں، لیکن جب ان کے بیٹے نے گریجویٹ اسکول کا امتحان دیا اور ناکام ہوا تو یانگ نے اس کے چھوڑے ہوئے کتابی نوٹس دیکھ کر خود تیاری کا فیصلہ کیا۔
یانگ کے مطابق سب سے مشکل مضمون انگریزی رہا کیونکہ وہ دو دہائیوں سے زبان استعمال نہیں کر رہی تھیں، لیکن شوہر اور بیٹے کے تعاون سے انہوں نے امتحان میں کامیابی حاصل کر لی۔
بھارتی شہر پٹنہ میں طبی سائنس کا انوکھا کیس ، شہری کی آنکھ سے دانت نکالنے کی سرجری
امتحان کے دوران انہیں ماسک اتارنے کا کہا گیا جس پر طلبہ ان کے چہرے کے داغ دیکھ کر حیران رہ گئے، تاہم خاتون نے کہا کہ وہ ایسی ردعمل کی عادی ہو چکی ہیں۔
یانگ نے کہا کہ کچھ لوگ ریٹائرمنٹ پر ڈانس اور سفر کرتے ہیں، میری ریٹائرمنٹ تعلیم ہے، یہ زندگی کا بہترین مرحلہ ہوگا۔ آن لائن صارفین نے ان کی ہمت، حوصلے اور دانشمندی کو بھرپور سراہا۔
