تجزیہ ، فرحان بخاری :
بیجنگ میں 3 ستمبر کو دوسری جنگِ عظیم میں کامیابی کی یاد میں ہونے والی چین کی سب سے بڑی فوجی پریڈ پاکستان کے یوم دفاع کی مناسبت سے موزوں موقع پر منعقد ہوئی۔
بیجنگ کے ’’ایونیو آف ایٹرنل پیس‘‘ پر، تیانمن اسکوائر کے قریب اس تقریب نے چین کی شاندار ترقی اور دنیا کے تیزی سے ابھرتے ہوئے ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کے بڑے صنعت کار کے طور پر مقام کو اجاگر کیا۔
منگل کو صدر شی جن پنگ کی پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقات اور چین کی “ اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے کے عزم نے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کو مزید تقویت دی۔
جنگ عظیم دوم میں جاپان کیخلاف فتح ، چین میں تاریخ کی سب سے بڑی فوجی پریڈ
یوم دفاع نہ صرف 1965 کی جنگ میں قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے بلکہ یہ پاکستان اور چین کے سب سے پائیدار تعلق کے آغاز کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
1965 کی جنگ کے بعد جب امریکا نے پاکستان پر پابندیاں عائد کیں تو اس وقت کے فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نور خان فوری طور پر چین روانہ ہوئے تاکہ ایک اہم تعلق کی بنیاد رکھی جا سکے۔ پاکستان کی طرف سے چینی لڑاکا طیارے مانگنے کی درخواست پر میزبانوں نے فوراً مثبت جواب دیا۔ ایئر مارشل نور خان نے مالیاتی تفصیلات کے بارے میں سوال کیا تو جواب ملا کہ یہ چینی عوام کی طرف سے پاکستانی عوام کو تحفہ ہے۔
یوں ایک طویل المدتی اور مضبوط تعلق کی بنیاد رکھی گئی۔ تقریباً ساٹھ برس بعد بھی چین پاکستان کا سب سے قابلِ بھروسہ دوست اور اتحادی ہے ،اس تعلق کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت کیساتھ حالیہ جنگ کے دوران پاکستان فوری اور مؤثر جواب دینے کے قابل ہوا۔
پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں چین کے فراہم کردہ ہتھیاروں میں ’’حیدر جدید ٹینک، نئے توپخانے، ، ہیلی کاپٹرز اور بحریہ کے لیے سطحی و زیرِآب نظام شامل ہیں۔
مودی کو چین میں سبکی کا سامنا ، سب سے بڑی فوجی پریڈ میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی
پاکستان فضائیہ کی برتری کو جے ایف-17 جیسے مشترکہ طور پر تیار کردہ طیاروں نے مزید تقویت دی ہے، جنہیں پاکستان اب برآمد بھی کر سکتا ہے۔ J-10 CP طیاروں کی شمولیت اور PL-15 ایئر ٹو ایئر میزائلز نے پاکستان کی دفاعی طاقت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
اس کے برعکس امریکا کیساتھ پاکستان کا تعلق کبھی اچھا اور کبھی خراب رہا ہے۔ 1965 کی جنگ کے بعد چین کا رخ کرنے سے پہلے امریکا نے پاکستان کو 12 ایف-104 اسٹار فائٹر اور 120 ایف-86 سیبر لڑاکا طیارے فراہم کیے تھے تاہم جنگ کے بعد امریکا نے بھارت اور پاکستان دونوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ چونکہ پاکستان کا انحصار زیادہ تر امریکی ہتھیاروں پر تھا اسلیے یہ پابندیاں پاکستان کیلیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئیں۔
چین نے کبھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اور نہ ہی کسی پابندی یا دباؤ کی دھمکی دی ، چین نے سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کے معاشی مستقبل میں بھی چین کا کردار نمایاں ہے۔ گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر سے شروع ہونے والا یہ سفر سی پیک تک جا پہنچا ہے۔ ایئر مارشل نور خان کی تاریخی ملاقات سے شروع ہونے والا یہ سفر آج ایک حقیقت ہے۔
