اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دہشت گردی سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات پر اہم اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے عالمی برادری کے سامنے دوٹوک اورمؤثرمؤقف پیش کیا۔
عاصم افتخارنے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل تمام افراد مسلمان ہیں جبکہ غیرمسلم دہشتگرد اورانتہا پسند اکثراحتساب سے بچ نکلتے ہیں یہ ناقابلِ قبول ہے امتیازی صورتحال فوری طور پربدلنی چاہیے۔
امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کے 4 اہلکاروں پر پابندیاں عائد کر دیں
انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ جیسے گروہوں میں باہمی تعاون نہ صرف پاکستان بلکہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔
پاکستانی مندوب نے اس بات پر بھی زوردیا کہ افغانستان کی عبوری حکومت داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں تو کررہی ہے لیکن ٹی ٹی پی اوربلوچ عسکریت پسند گروہ اب بھی افغانستان کےغیرحکومتی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہیں۔
انہوں نےعالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی معیار کومذہب، نسل یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پرمتعصب نہ بنایا جائے۔
