کراچی میں کبھی آہستہ کبھی تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے، شہر کے مختلف علاقوں کی سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، گلیاں، محلے پانی میں ڈوب گئے۔ دیواریں گرنے اور کرنٹ لگنے سے دس افراد جاں بحق جب کہ چھ زخمی ہو گئے۔
کراچی میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جب کہ ٹریفک پولیس نے ناظم آباد، لیاقت آباد، غریب آباد ، خیابان اقبال، کلفٹن سمیت دو تلوار انڈر پاس بھی ٹریفک کیلئے بندکر دیا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں 800 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی بھی بند ہوگئی۔ بارش کے بعد کے الیکٹرک کا ڈسٹری بیوشن نظام تاحال غیر مستحکم ہے۔
اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی
محکمہ موسمیات نے بارش کے اعداد و شمار جاری کردیے ہیں۔
گلشن حدید میں 145 ملی میٹر، کیماڑی میں 137، جناح ٹرمینل پر 135، اولڈ ایئرپورٹ پر 125 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔
سعدی ٹاؤن میں 123، گلستان جوہر میں 122، کلفٹن ڈی ایچ اے میں 121، فیصل بیس پر 114، سُرجانی ٹاؤن میں 111 اور نارتھ کراچی میں 108 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
کورنگی میں 96.6، ناظم آباد میں 82، مسرور بیس پر 75، گلشن معمار پر 75.2 اور اورنگی ٹاؤن میں 66.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مون سون بارشوں کے دوران متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے شدید بارشوں کے پیش نظر ریسکیو اور انتظامیہ کو متحرک رہنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ نے میئر کراچی کو ہدایت کی کہ بارش کے پانی کے فوری اخراج کے لیے مشینری اور عملہ متحرک رکھا جائے، شدید بارشوں کے دوران عوام کو غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کرے۔
دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے سوشل میڈیا پر کراچی کے مختلف علاقوں کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کئی گھنٹے کی بارش کے باوجود شہر قائد کی سڑکوں پر پانی موجود نہیں ہے۔ اور ٹریفک کی روانی معمول کے مطابق جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں کے اطراف میں کچھ پانی موجود ہے۔ تاہم میونسپل کا عملہ صفائی میں مصروف ہے۔ ٹاور کے اطراف اولڈ سٹی ایریا کی گلیوں میں موجود پانی کی نکاسی کا سلسلہ جاری ہے۔
