وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بھارت کیخلاف فتح سے جشن آزادی کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں، افواج نے بھارت کو ایسا سبق سکھایا کہ کبھی بھول نہیں پائے گا۔
اسلام آباد میں یوم آزادی اور معرکہ حق کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وقت آچکا کہ سیاسی تقسیم اور کھوکھلے نعروں سے آگے بڑھ کر پاکستان کو مضبوط بنائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سب کو آج یوم آزادی کے 78 سال مکمل ہونے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، آج کا دن کوئی عام دن نہیں، یہ وہ تاریخ ہے جس کے ہر موڑ پر ہمارے شہیدوں کے لہو کی نشانیاں نظر آتی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ محض آزادی جنگ نہیں تھی، دو قومی نظریے کی فتح تھی، اپنی اور سب کی طرف سے بابائے قوم قائد اعظم، مفکر پاکستان اور تحریک پاکستان کے افراد کو سلام پیش کرتا ہوں۔ محمد علی جناح نے تینوں کام کر دکھائے اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔
بولے کہ ہم نے اس جشن آزادی کو معرکہ حق کا نام دیا ہے، بھارت بھول گیا، جنگیں صرف ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں لڑی جاتیں، اس کے لیے ایسے بیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے جو جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں کود جاتے ہیں۔یہ وہ بہادر اور دلیر جوان ہیں، جو سیسہ پلائی دیوار بن کر لڑتے ہیں ۔ جن کی مائیں کہتی ہیں اپنی جان دے دینا، وطن کی شان پر آنچ نہ آنے دینا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر قوم کا وہ بیٹا ہے جس نے بھارت کے خلاف ایسی حکمت عملی بنائی جس کا اعتراف دوست دشمن کرتے ہیں۔ 10 مئی 2025 کو ایک نئی قوم ابھر کر سامنے آئی۔ معرکہ حق نے ثابت کر دیا کہ قربانیوں سے حاصل کیے وطن کی حفاظت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
بھائی چارے ، ہم آہنگی اور یکجہتی کے ذریعے خوشحال پاکستان تشکیل دینگے ، صدر ، وزیراعظم
وزیراعظم نے آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی حامل، دشمن پر ہرسمت سے نشانہ بنانے والی یہ فورس ہماری صلاحیتیوں میں ایک سنگ میل ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کو ناقابل تسخیر بنانے والے بانی، ذوالفقار علی بھٹو، ڈاکٹر عبدالقدیر اور دیگر سائنسدانوں کو تاریخ کو یاد رکھے گی۔ نواز شریف کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے 28 مئی کو دباؤ اور دھمکیوں کے ساتھ پیسوں کی پیشکش سے انکار کرتے ہوئے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہماری ایٹمی طاقت کسی طور پر بھی جارحانہ سوچ نہیں رکھتی۔ بھارت کی جوہری طاقت کا سامنا کرنے کے لیے ملک کو جوہری طاقت بنایا۔انتہائی بااعتماد ہمسایہ ملک، چین، ترکیہ، قطر اور ایران نے جس طرح پاکستان کے موقف کی کھل کر حمائت کی، پاکستانی قوم ان بھائیوں اور دوستوں کا شکریہ ادا کرتی ہے۔
بولے کہ امریکا کے صدر ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کشمیر کا مسئلہ حل کروانے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
ہم نے 2024 کے بعد ایک خستہ حال معیشت کو سنبھالنے کے لیے انتہائی نوعیت کے اقدامات کیے۔ ایک خطرہ ٹل گیا جو معیشت پر منڈلا رہا تھا، اسٹاک ایکسچینج اپنی بلندیوں پر ہے۔ عالمی ادارے مان رہے ہیں کہ پاکستان نئے دور میں داخل ہورہا ہے۔ یہ صرف آغاز ہے، ہمیں کامیابی کی منزلیں ابھی طے کرنی ہیں۔
