برطانیہ، آسٹریلیا اور ترکیہ نے اسرائیل پر غزہ کے قبضے کا منصوبہ ختم کرنے پر زور دیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اسرائیل کے غزہ پر قبضے کے مذموم منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا فیصلہ غلط ہے، نظر ثانی کی جانی چاہیے، اسرائیل کے اقدام سے صورتحال مزید بد تر ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی کابینہ نے غزہ پر قبضے کی منظوری دیدی ، رہائشیوں کو انخلاء کا حکم
آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے اسرائیلی منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا اسرائیل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس راستے پر نہ جائے جو غزہ میں تباہی کو مزید بڑھا دے گا، مستقل جبری بے دخلی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دو ریاستی حل ہی پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ ہے۔
ترک وزارت خارجہ نے کہا کہ انتہا پسند نیتن یاہو حکومت کی نسل کشی اور قبضہ بڑھانے کی کوشش عالمی امن و سلامتی کو سنگین نقصان پہنچا رہی ہے، اسرائیل فوری جنگی منصوبے روکے، جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کرے اور دو ریاستی حل کے لیے مذاکرات شروع کرے۔
ٹرمپ آج آذربائیجان اورآرمینیا کے تاریخی امن معاہدے کی میزبانی کرینگے
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری پر لازم ہے کہ اسرائیلی منصوبے کو روکنے کی ذمہ داری ادا کرے، اقوام متحدہ سلامتی کونسل اسرائیل کے خلاف لازمی اور مؤثر فیصلے کرے۔
واضع رہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے شمالی حصے میں رہائشیوں کو جبری انخلا کا حکم دے دیا ہے جس سے فوجی آپریشن میں وسعت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
