سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ ریاست کی خوارج سے بات چیت یا سمجھوتے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، دہشتگردوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔
ذرائع نے کہا کہ قبائل اور خارجیوں کی بات چیت کے ذریعے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، خوارج باجوڑ میں آبادی کے درمیان رہ کر دہشتگرد اور مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خوارج اورسہولتکاروں کے ساتھ حکومتی سطح پر کوئی بات چیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب تک خارجی ریاست کے سامنے سرتسلیم خم نہ کریں بات چیت ممکن نہیں۔
وزیر اعظم کا وادی تیراہ میں خوارج کی فائرنگ سے شہریوں کی شہادت پر اظہار افسوس
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ خارجیوں کی بڑی تعداد افغانیوں پر مشتمل ہے، وہاں کے قبائل کے سامنے تین نکات رکھے ہیں ، پہلا نکتہ یہ ہے کہ ان خارجیوں کو جن کی زیادہ تعداد افغانیوں پر مشتمل ہے، ان کو باہر نکالیں۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر قبائل خوارج کو خود نہیں نکال سکتے تو ایک یا دو دن کے لیے علاقہ خالی کردیں تاکہ سکیورٹی فورسز ان خوارجین کو اُن کے انجام تک پہنچا سکیں۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر یہ دونوں کام نہیں کیے جا سکتے تو حتی الامکان حد تک نقصان سے بچا جائے کیونکہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ہر صورت جاری رہے گی۔
مالاکنڈ میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 9 خوارجی دہشتگرد ہلاک، 8 گرفتار
ذرائع نے بتایا کہ قبائلی جرگہ ایک منطقی قدم ہے تاکہ کارروائی سے پہلے حتی الامکان حد تک عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے ، کسی بھی طرح کی مسلح کارروائی کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے۔
