مانسہرہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ کے متنازع فیصلوں کا سہارا لے کر مخالفین کو نشانہ بنا رہی ہے۔ تمام سیاسی اسیران کو رہا کیا جائے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مانسہرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں 55 لاکھ بچے تعلیم کے زیور سے محروم ہیں۔ اور 14 سالوں سے برسر اقتدار تحریک انصاف کی صوبائی حکومت تعلیمی نظام کو بہتر نہیں بنا سکی۔
انہوں نے کہا کہ نام نہاد بڑی حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی کے لیے لائن میں لگی ہیں۔ اور مافیاز کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ دیگر پارٹیاں اپنے مفادات جبکہ جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی اور عوام کے حقوق کی جدوجہد کر رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بجلی کا ٹیرف ظالمانہ ہے۔ اور اس سسٹم کو ختم ہونا چاہیے۔ بڑے بڑے ڈیلروں پر مشتمل مافیا ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ شوگر یا آئی پی پیز مافیا صرف اپنی تجوریاں بھرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اندرون ملک فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔ جماعت اسلامی نے باجوڑ میں تمام سیاسی پارٹیوں کو ساتھ لے کر امن جرگہ تشکیل دیا ہے۔ تاکہ ایسے کسی بھی آپریشن سے بچا جائے جس میں بے گناہ انسانی جانیں ضائع ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا فواد چودھری کو چیلنج
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک میں امن ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اور نومبر میں لاہور میں ایک بڑا پاور شو کریں گے۔ عوام کو ساتھ ملائے بغیر امن ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی آنے والے دنوں میں ملک گیر سطح پر عوامی حقوق کی جدوجہد شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
