قومی ادارہ برائے آفات کنڑول کے اکاونٹس میں پندرہ ارب روپے کی بے ضابطگیوں، مبینہ خوردبرد اور اربوں کے مہنگے ٹھیکے دیے جانے اور سیلاب سے بچاو کے سازوسامان کی خریداری کی مد میں اربوں روپے کی رقم کا خلاف ضابطہ استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈٹ رپورٹ 2024 اور 2025 میں انکشاف ہوا ہے کہ این ڈی ایم کمشن کی میٹںگ 2018 کے بعد نہیں کی گئی،سیلابی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم کو یہ میٹنگ ہرتین ماہ بعد قانون کی روشنی میں کرنی ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایم ایس این ایل سی کو دو ارب تینتالیس کروڑ کی زیادہ ادائیگی کی گئی ہیں، این ڈی ایم اے نے کو پچھلے سال گیارہ ارب تئیس لاکھ کی ادائیگی کی جبکہ اصل ادائیگی دس ارب تیس کروڑ کی بنتی تھی۔
اس ضمن مین ہم نیوز کو این ڈی ایم اے کے جواب کا انتظار ہے۔ رپورٹ کے مطابق اورنگی نالہ پر یہ کمپنی کو پیمنٹ کی گئی تھی۔ایف ڈبلیواو کو ایک ارب تراسی کروڑ کی زیادہ ادائیگی کی گئی۔
این ڈی ایم اے نے کو پچھلے سال دس ارب دس لاکھ کی ادائیگی کی جبکہ اصل ادائیگی نو ارب اکاون کروڑ کی بنتی تھی۔گجر نالہ پر یہ کمپنی کو پیمنٹ کی گئی تھی۔
تہترکروڑ روپے کی سیلز ٹیکس کی غیرشفاف انوائسز فراہم کی گئی۔اسی طرح سندھ سیلزٹیکس نے ٹھیکداروں سے اکتالیس کروڑ کا ٹیکس نہیں لیا گیا۔مختلف پارٹیوں کو پانتیس کروڑ کی اضافی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔
کچھ سرکاری، نیم سرکاری ٹھیکیداروں کو پندرہ کروڑ کی اضافی پیمنٹ کی گئی ہیں۔این ڈی ایم اے کی جانب سے بلا جوازسوا دو کروڑنجی کمپنیوں کوایونٹ مینجمنٹ پر دیے گئے۔
چھ نجی کمپنیوں کوچارارب بیاسی کروڑ روپے کے بغیراوپن بڈنگ کے خاندانوں کیلیے ٹنٹٹ کے ٹھیکے دیے گئے۔ان تمام ٹھیکوں میں پیپرا رولز کو فالو نہیں کیا گیا۔
چارمزید نجی کمپنیوں کو ڈھائی ارب کے پناہ کیلیے ٹینٹ خریدنے کے اوپن ٹیکنیکل ایولوایشن کے ٹھیکے دیے گئے۔این ایل سی کو این ای او سی کی تعمیر کا دوارب روپے کا ٹھیکہ بغیر اوپن ٹینڈرز کے دیا گیا۔
ستاون کروڑ کے کمبل خریدنے کیلیے مختلف نجی کمپنیوں کے ٹھیکے اوپن ٹینڈر کے بغیر ملے۔
