اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) صوبے میں سیاسی جماعتوں اور وفاق میں اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتی ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما بیرسٹر عقیل ملک نے ہم نیوز کے پروگرام “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہارس ٹریڈنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک فارمولا طے کیا۔ اور ہم نے اسی فارمولے کے تحت سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی۔ پی ٹی آئی اس فارمولے پر آمادہ ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر ٹکٹ ٹریڈنگ ہوئی ہے۔ ہارس ٹریڈنگ روکی گئی لیکن پی ٹی آئی کے اندر ٹکٹ ٹریڈنگ نہیں روکی جا سکی۔
مراد سعید کی کامیابی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ مراد سعید حلف لیں گے۔ اور کیونکہ وہ اتنے عرصے سے روپوش ہیں۔ اور وہ آئیں گے تو ان کو اپنے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ تو نہیں کہ حلف لینے آئیں گے تو ان کو کوئی نہیں پکڑے گا۔ اب مراد سعید پہلے عبوری ضمانتیں کروائیں اس کے بعد حلف لے لیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو جہاں سیاسی فائدہ نظر آتا ہے وہاں ایڈجسٹمنٹ کر لیتی ہے۔ صوبے میں پی ٹی آئی سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرتی ہے۔ لیکن وفاق میں اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات، خیبر پختونخوا میں حکومت کے 6 اور اپوزیشن کے 5 سینیٹرز منتخب
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پارٹی فنڈ میں کوئی حصہ ڈالتا ہے تو پارٹی مجبور ہوجاتی ہے۔ اور دنیا بھر میں لوگ پارٹی کے لیے فنڈز دیتے ہیں۔ جبکہ پارٹی فنڈ کرنے پر امریکی صدر ٹرمپ نے ایلون مسک کو بھی حکومت میں عہدہ دیا تھا۔
ایف سی متعلق انہوں نے کہا کہ ایف سی میں ہم بہتر اسٹرکچر لے کر آئے ہیں۔ اور فرنٹیر کانسٹیبلری ایک صوبے کی حد تک محدود نہیں۔ بلکہ ایف سی میں پورے ملک بشمول گلگت بلتستان سے بھرتیاں کی جائیں گی۔ ایف سی کو انسداد دہشتگردی، رائٹس اور انٹرنل سیکیورٹی کے لیے بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں ہم مستحکم پوزیشن میں ہیں لیکن اتحادی ضروری ہے۔ یہ سفر ہم نے اکٹھے شروع کیے تو اس کا اختتام بھی اکٹھے ہی ہونا چاہیئے۔
