ایک جھوٹی کہانی ، سینکڑوں گھروں کی نمائندگی کرتا ہوا خوبصورت ڈرامہ ہے جو ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑ لے گا۔
مشاہدہ یہ ہے کہ وہ ڈرامے، کہانیاں اور فلمیں ہی ناظرین کے دلوں میں جگہ بناتی ہیں جو حقیقت سے قریب تر ہوں۔ ایسی ہی تخلیقات دیرپا اثر چھوڑتی ہیں جن کے کردار اور واقعات زندگی سے جڑے ہوں جن میں عام انسان کے جذبات، مشکلات اور تعلقات کی جھلک ہو۔
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں، جہاں کہانی کاروں نے اپنے آس پاس کے ماحول سے کردار تراشے، ہدایت کاروں نے انہیں بھرپور سچائی کے ساتھ اسکرین پر اتارا اور ان کہانیوں نے اندرون ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑھے۔
ماضی کے سنہری دور کی بات کی جائے تو وارث، تنہائیاں، ان کہی اور دھوپ کنارے جیسے کلاسک ڈرامے آج بھی معیار کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ان ڈراموں نے معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا، عام انسان کی زندگی، اس کے خواب، امیدیں اور ناکامیاں بھرپور انداز میں پیش کیں۔ ان کی سادہ مگر مؤثر کہانیاں ناظرین کے دلوں سے جڑ گئیں اور ایک ایسا جذباتی تعلق قائم ہوا جو آج بھی قائم ہے۔
کسی کی بے وفائی برداشت نہیں کر سکتی، مہربانو
سن 2000 کے بعد ڈراموں کا منظرنامہ بدلا لیکن معیار کم نہ ہوا۔ ہمسفر ایک ایسا ڈرامہ تھا جس نے نہ صرف فواد خان اور ماہرہ خان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا بلکہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو عالمی سطح پر نئی شناخت دی۔ اس کے بعد زندگی گلزار ہے، میرے پاس تم ہو، عہد وفا، پیارے افضل، اُڈاری، من جوگی، تن من نیل و نیل، زرد پتوں کا بن، کبھی میں کبھی تم، جانِ جہاں، خئی، نورجہاں، خوشبو میں بسے خط اور عشق مرشد جیسے ڈرامے سامنے آئے جنہوں نے ریٹنگز کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور ہر عمر و طبقے کے ناظرین کو متاثر کیا۔
ان ڈراموں میں نہ صرف فنی مہارت نظر آئی بلکہ معاشرتی شعور بھی نمایاں رہا۔ یہی وہ عنصر ہے جو ہم ٹی وی کو دیگر چینلز سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں خالص پاکستانی معاشرت، جذبات، ثقافت اور رشتوں کو سلیقے سے پیش کیا جاتا ہے۔ اسی تسلسل میں ہم ٹی وی کا نیا ڈرامہ ”ایک جھوٹی کہانی“ بھی ایک ایسی کہانی ہے جو سینکڑوں گھروں کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ ڈرامہ جذبات، مزاح اور رشتوں کے اندرونی الجھاؤ کو خوبصورتی سے ایک ساتھ بنتا ہے۔
افراتفری، خواب اور غیر متوقع محبت کی اس کہانی میں سامنے آتی ہے زندگی کی وہ تصویر جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے۔ ”ایک جھوٹی کہانی“ صرف ایک گھریلو ڈرامہ نہیں بلکہ رشتوں، ذمہ داریوں اور جذبات کے درمیان پنپنے والے ایک انوکھے بندھن کا قصہ ہے۔
ڈرامے کی کہانی گھومتی ہے عرفان کے گرد جو ایک سنجیدہ اور تھکا ہارا نوجوان ہے، جس پر پانچ خودسر، غیر ذمہ دار اور ضدی بہنوں کی ذمہ داری آن پڑی ہے۔ ان بہنوں کے رویے نے گھر کو میدان جنگ بنا دیا اور کوئی گھریلو ملازمہ بھی اس افراتفری میں زیادہ دیر ٹک نہیں پاتی۔ عرفان اس الجھن سے نکلنے کیلئے ایک غیر روایتی راستے یعنی شادی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔
عرفان کی بہنوں کی شہرت ایسی نہیں کہ کوئی لڑکی اُس کے ساتھ زندگی گزارنے پر آمادہ ہو۔ ایسے میں قسمت اُس کا سامنا بشریٰ سے کراتی ہے، ایک باہمت اور خوابوں کی متلاشی لڑکی جو تھیٹر کی دنیا میں اپنا مقام بنانا چاہتی ہے مگر وسائل کی کمی آڑے آجاتی ہے۔ عرفان اسے ایک انوکھی آفر کرتا ہے، بشریٰ ایک ماہ تک اُس کی بیوی بن کر اس کے گھر میں رہے اور بدلے میں وہ اُسے دس لاکھ روپے دے گا۔
یہ معاہدہ جو محض ایک سمجھوتہ تھا، آہستہ آہستہ ایک پیچیدہ جذباتی کھیل میں بدلنے لگتا ہے۔ گھر کی فضا بشریٰ کی موجودگی سے مزید کشیدہ ہو جاتی ہے، خصوصاً عرفان کی بہنوں کے ساتھ اُس کی نوک جھونک ناظرین کو ہنسانے اور رلانے دونوں پر مجبور کرے گی۔ اس غیر معمولی ماحول میں رفتہ رفتہ عرفان اور بشریٰ کے درمیان جذبات کا ایک ایسا رشتہ جنم لیتا ہے جو ہر توقع سے بالاتر ہوتا ہے۔ محبت، مجبوری، قربانی اور خودی کے اس سفر میں حقیقت اور جھوٹ کی لکیریں دھندلا جاتی ہیں۔
”ایک جھوٹی کہانی“ صرف ایک رشتہ دارانہ الجھن نہیں بلکہ دلوں کے بدلتے جذبوں کی جھلک ہے۔ اس دل کو چھو لینے والی کہانی کو تحریر کیا ہے آمنہ مفتی نے اور ہدایت دی ہے شہرزاد شیخ نے، جبکہ اسے پیش کر رہا ہے مومنہ درید پروڈکشن۔
اس کہانی کی خاص بات اس کا قدرتی اندازہے، ناظرین اس میں اپنی زندگیوں کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ ڈرامہ نہ صرف ہنسی مذاق، چپقلش اور بہن بھائی کی شرارتوں سے لبریز ہے بلکہ اس میں رشتوں کی پیچیدگی، جذبات کی شدت اور سچ و جھوٹ کے درمیان باریک مگر واضح لکیر بھی دکھائی گئی ہے۔ یہ دکھایا گیا ہے کہ بعض اوقات نیکی کے ارادے سے بولا گیا ایک جھوٹ کس طرح بڑی الجھنوں کا سبب بن سکتا ہے۔
محب مرزا نے ایک حساس مگر مضبوط بھائی کا کردار نہایت خوبصورتی سے نبھایا ہے جو بظاہر سنجیدہ اور پُرعزم دکھائی دیتا ہے مگر اندر سے جذبات کی شدت سے لڑ رہا ہوتا ہے۔ زارا نور عباس اپنے منفرد، سادہ اور بے ساختہ انداز میں ناظرین کے دلوں پر ایک بار پھر راج کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اُن کا کردار نہ صرف ایک جھوٹی بھابھی کا ہے بلکہ ایک ایسی لڑکی کا ہے جو اپنی موجودگی سے پورے گھر کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔
سالگرہ پر عالیہ بھٹ کا دھماکا، ملازمہ اور ڈرائیور کو ممبئی میں گھر دلوا دیا
پانچ بہنوں کے کرداروں میں قدسیہ علی، آمنہ یوسفزئی، نوال پرویز، سبینہ سید اور لائبہ شاہ شامل ہیں جنہوں نے اپنے، اپنے کرداروں کو انفرادیت دی ہے۔ ہر بہن کی شخصیت اور انداز مختلف ہے، جو کہانی کو متنوع بناتا ہے۔ اداکاراؤں کی باہمی ہم آہنگی اور مکالموں کی روانی ڈرامے کی جان ہے۔ یہ سیریل 22 جولائی سے ہر جمعہ کی شب 8 بجے پیش کیا جائے گا۔ ڈرامے کی کاسٹ میں محب مرزا، زارا نور عباس، عظمیٰ بیگ، کیف غزنوی، بہروز سبزواری، سید محمد احمد، نوال پرویز ملک، قدسیہ علی، آمنہ یوسف، سبینہ سید، حمزہ طارق، تیمور اکبر، لائبہ شاہ اور دیگر شامل ہیں۔
یہ ڈرامہ آمنہ مفتی کی تحریر ہے جنہیں گہرے، جاندار اور حقیقت پر مبنی کرداروں کو تخلیق کرنے کا ہنر بخوبی آتا ہے۔ ہدایتکاری کے فرائض نوجوان ہدایتکارہ شہرزاد شیخ نے انجام دیے ہیں جنہوں نے ہر سین کو نہایت قدرتی، سادہ اور جذباتی انداز میں پیش کیا ہے۔ مکالمے عام فہم اور مؤثر ہیں جبکہ منظر نگاری اور پس منظر کی موسیقی بھی ڈرامے کو ایک خاص رنگ عطا کرتی ہے۔
ایک جھوٹی کہانی، صرف ایک ڈرامہ نہیں بلکہ ایک مکمل تجربہ ہے جو ناظرین کو محظوظ بھی کرتا ہے اور سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ یہ ڈرامہ ان تمام لوگوں کیلئے ہے جو فیملی، رشتوں اور سچائی سے جڑی کہانیاں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ہم ٹی وی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ خاندانی ڈرامے آج بھی ناظرین کے دلوں میں وہی مقام رکھتے ہیں، بشرط کہ انہیں سچائی اور خلوص کے ساتھ پیش کیا جائے تو ہو جائیں تیار ایک ایسی کہانی دیکھنے کیلئے جو بظاہر جھوٹی مگر دل سے سچی ہے۔
