اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں رپورٹ پیش نہ کرنے پر وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ چھٹیاں ختم ہونے کے بعد پہلے ورکنگ ڈے پر کیس کی سماعت ہو گی۔
جسٹس اعجاز نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کا روسٹر چیف جسٹس آفس ہینڈل کرتا ہے، میری چھٹیاں آج سے شروع ہونی تھیں ، جج چاہے بھی تو چھٹیوں میں کام نہیں کر سکتا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں کرکٹ اور فٹبال گرائونڈز کی نیلامی روک دی
ان کا کہنا تھا کہ فوزیہ صدیقی کیس دیگر کیسز کیساتھ آج مقرر کیا تھا، پرسنل سیکرٹری سے کہا کہ کازلسٹ سے متعلق چیف جسٹس کو درخواست لکھیں۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کو مسلسل نظر انداز کرنا برداشت نہیں کیا جائیگا، وفاقی کابینہ کے ہر ممبر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتا ہوں۔
