خیبر پختونخوا حکومت نے امن و امان کی صورتحال پر اگلے ہفتے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کر لیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بھارتی جارحیت میں شہید افراد کے ورثا کیلئے فی کس 50 لاکھ روپے اور دہشتگردی میں شہید مولانا خانزیب کے ورثا کیلئے ایک کروڑ روپے امداد کی منظوری دی گئی۔
خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن میں سینیٹ کے بلا مقابلہ انتخاب پر اتفاق
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ اے پی سی میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو مشاورت کیلئے مدعو کیا جائے گا تاکہ اس مسئلے کے پائیدار حل کیلئے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی کوششوں سے ضلع کرم میں امن بحال ہوا جبکہ جرگوں اور مقامی عمائدین کی مشاورت سے دیگر علاقوں میں بھی امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
ہمیشہ وہ قوم دفاعی طور پر کمزور ہوتی جو اپنے شہدا کو بھول جاتی ہے، علی امین گنڈاپور
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ 3 ایم پی او کا نفاذ صوبائی محکمہ داخلہ کی پیشگی اجازت سے مشروط ہو گا تاکہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ 3 ایم پی او کا قانون ایف سی آر طرز کا قانون ہے جس کا اکثر غلط استعمال ہو رہا ہے، اس کی اصلاح ضروری ہے۔
علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ قدرتی آفت کہیں بھی آ سکتی ہے اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، خیبر پختونخوا دیگر صوبوں کی مدد کیلئے ہر وقت تیار ہے۔
