اسلام آباد (فرحان بخاری) رواں سال مون سون کی ابتدائی بارشوں سے متعدد شہروں میں صورتحال بگڑ رہی ہے، بارشوں کے باعث 110 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کی یاد تازہ کر دی ہے۔
شدید بارشیں بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہیں، جو آنے والے وقت میں پاکستانیوں کی طرز زندگی کو بدل کرکے رکھ دے گی، اس بگڑتی ہوئی صورت حال کی ایک بڑی وجہ شمالی علاقوں، خاص طور پر گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کو قرار دیا جا رہا ہے، ایک وقت میں ان گلیشیئرز کی تعداد سات ہزار سے زیادہ بتائی جاتی تھی، لیکن ان کا غیر متوقع طور پر تیزی سے ختم ہونا پاکستان بھر میں بدلتے موسموں کا واضح ثبوت ہے۔
موسلادھار بارشیں، اسلام آباد ائیرپورٹ پر 30 پروازیں تاخیر کا شکار
درختوں کی تیزی سے کٹائی اور ان کی جگہ نئے درخت نہ لگانے سے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو مزید سنگین بنا دیا ہے، ایک غیر یقینی مستقبل کی جھلک 2010 میں ہنزہ وادی میں عطا آباد جھیل کے قیام کے ساتھ دیکھی گئی۔
حالیہ بارشوں سے ہونے والی تباہی نے ایک بار پھر دو اہم ترین اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے، پہلا ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل کا فوری استعمال ناگزیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر ترقیاتی کام، جیسے سڑکوں یا دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر کو وقتی طور پر روک دینا چاہیے۔ جب تک ماحولیاتی تبدیلی کے بنیادی اسباب پر قابو نہ پا لیا جائے، تمام ترجیحات کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا۔
اس کے علاوہ پاکستان کی معیشت کو زرعی شعبے پر مرکوز کیا جانا چاہیے، جو تیزی سے زوال کا شکار ہے، یہی شعبہ نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم کر سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مؤثر ہتھیار بھی بن سکتا ہے۔
گزشتہ مالی سال جولائی 2024 تا جون 2025 میں زرعی شعبے کی شرحِ نمو صرف 0.6 فیصد رہی، جو 2.5 فیصد کی سالانہ آبادی میں اضافے کی شرح سے کہیں کم ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی خوراک پیدا کرنے کی صلاحیت، اس کی آبادی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔
حالیہ برسوں میں پالیسی کی ناکامیوں نے زرعی ترقی کو زوال کی طرف دھکیل دیا ہے، جس کی بدترین مثال 2024 کے موسمِ بہار کی ہے جب پنجاب کی صوبائی حکومت نے گندم کی خریداری کا اعلان واپس لے لیا۔
آگے بڑھنے کا راستہ زرعی شعبے کی بحالی سے ہی ممکن ہے، تاکہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اپنی معیشت کو بھی مستحکم کر سکے۔
آزادانہ تخمینوں کے مطابق تقریباً 10 کروڑ پاکستانی جو ملک کی کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد ہے غربت کا شکار ہیں اور ان کے لیے بہتر زندگی صرف خوراک کی سیکیورٹی بہتر بنانے سے ہی پیدا کئے جا سکتے ہیں۔
جو ماحولیاتی تباہیاں ہم آج دیکھ رہے ہیں، وہ اس وقت تک بڑھتی رہیں گی جب تک ان سے فوری اور سنجیدگی سے نمٹا نہ جائے۔
