اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے جس سے نظام زندگی درہم برہم ہو گیا۔
راولپنڈی میں نالہ لئی کٹاریاں کے مقام پرپانی کی سطح 15.7 فٹ تک جا پہنچی، نشیبی علاقے زیرآب آنے سے پانی گھروں میں داخل ہو گیا، اڈیالہ روڈ سمیت متعدد سڑکیں بیٹھ گئیں، نالہ لئی کی سطح بلند ہونے کے بعد سائرن بجا دیئے گئے۔
چکوال میں شدید بارش، کچے مکان کی چھت گرنے سے دو جاں بحق
موسلادھار بارش کے باعث لالہ زار کا علاقہ بھی زیرآب آنے سے پانی دکانوں اور گھروں میں داخل ہو گیا ، بحریہ ٹاؤن فیز ایٹ میں ریلہ داخل ہونے سے مرکزی شاہراہ متاثر ہو گئی جبکہ محلہ راجپوتاں میں گاڑی ریلے میں بہہ گئی ، اسلام آباد میں نالہ کورنگ بنی گالہ کے مقام پر بپھر گیا۔
پاک فوج نے راولپنڈی چکری روڈ پر پانی میں پھنسے خاندان کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بچا لیا ، دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے رین ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے نالہ لئی کے اطراف رہنے والوے شہریوں کو انخلا کی وارننگ جاری کر دی ، شہر میں آج کیلئے چھٹی کا اعلان بھی کر دیا گیا ۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد کے علاقے بوکرا میں 125 ملی میٹر، سیکٹر I-12 میں 106 ملی میٹر، گولڑہ میں 97 ملی میٹر، ایئرپورٹ پر 61، سید پورمیں 69 اور زیرو پوائنٹ پر22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
این ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی
راولپنڈی میں سب سے زیادہ بارش چکلالہ کے علاقے میں 185 ملی میٹرہوئی، کچہری میں 102، گوالمنڈی میں 175، پیرودھائی میں 80 اورشمس آباد میں 128 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
ادھر جہلم میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، ڈھوک بدر کے برستاتی نالے میں طغیانی آنے سے متعدد افراد پھنس گئے۔ پاک فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے 10 افراد کو ریسکیو کر لیا۔
