وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ زرعی زمینوں کو ہاؤسنگ سوسائٹیز میں تبدیل کرنے کا سلسلہ تشویشناک ہے۔
زرعی زمین کو رہائشی سوسائٹیز میں تبدیل کرنے سے متعلق کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر احسن اقبال نے کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زرعی زمینوں کی تیزی سے کمی تشویشناک حد تک بڑھ گئی۔
انہوں نے کہا کہ زرعی زمینوں کو ہاؤسنگ سوسائٹیز میں تبدیل کرنے کا سلسلہ تشویشناک ہے،آنے والی نسل کو خوراک مل سکے گی؟ فوڈ سیکیورٹی شدید خطرے میں ہے۔
بولے کہ اسلام آباد میں فوری طور سے عمودی تعمیرات کی طرف آغاز کیا جائے،درختوں کی کٹائی پر سخت قوانین کی ضرورت ہے، ماحول بچانا سب کی ذمہ داری ہے۔
صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ریکارڈ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، احسن اقبال
ان کا کہنا تھا کہ 20سال میں کتنی زرعی زمین رہائشی ا سکیموں کی نذر ہوئی؟ صوبائی حکومتیں ڈیٹا اکٹھا کریں۔ زرعی زمین کے بےدریغ استعمال سے ہم اپنی خوراک کا مستقبل بیچ رہے ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ماحولیاتی توازن بگڑنے لگا ہے ، ہاؤسنگ کی لالچ زرعی زمین نگل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون سازی اور نیشنل فریم ورک کے بغیر اربن ڈویلپمنٹ ناگزیر ہے،صوبائی حکومتوں کیساتھ ملکر زرعی زمینوں کے تحفظ کیلئےپالیسی تشکیل دی جائے گی۔
