اسلام آباد: حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ایک اور شرط پوری کرتے ہوئے ترسیلات زر کی ٹرانزیکشنز پر بینکوں کے لیے منافع ختم کر دیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق نئے بجٹ سے بینکوں کو ترسیلات زر موصول ہونے پر رقم نہیں ملے گی۔
سیکرٹری فنانس کے مطابق 100 ڈالر سے زائد کی ترسیلات زر ٹرانزیکشنز پر 35 ریال منافع دیا جا رہا تھا۔ اور رواں مالی سال تقریباً 2 سو ارب روپے بینکوں کو منافع کی مد میں دیئے جانے کا تخمینہ تھا۔
سید نوید قمر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں معاشی ٹیم نے بریفنگ دی کہ ترسیلات زر موصول ہونے پر بینکوں کو منافع مرکزی بینک کے منافع سے دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے امریکی ماڈل اپنانے کا فیصلہ
اجلاس کے شرکا کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 86 ارب روپے بینکوں کو منافع کی مد میں دیئے گئے۔
امداداللہ بوسال نے کہا کہ ترسیلات زر کی ٹرانزیکشنز پر بینکوں کو ملنے والے منافع پر کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مالیاتی گنجائش اور آئی ایم ایف شرائط پر بجٹ مختص نہیں کیا گیا ہے۔ اور مرکزی بینک ترسیلات زر پر بینکوں کو منافع کے لیے نئی اسکیم تیار کر رہا ہے۔
