وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی نے تحریک چلائی ہے تو وہ بانی پی ٹی آئی نے چلائی ہے، تحریک شروع ہو چکی ، حکومت میں رہیں یا نہ رہیں ، 90 دن میں آر یا پار کرینگے۔
لاہور میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ عام انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان چھینا گیا، بانی پی ٹی آئی کیخلاف بوگس اورسیاسی کیسز ہیں ، ہمارے خلاف کیسز میں انہیں کچھ نہیں ملا۔
کارکنان کی گرفتاریاں ہمارا راستہ نہیں روک سکتیں، علی امین گنڈاپور
انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف ابھی بھی کارروائیاں جاری ہیں، پی ٹی آئی کو احتجاج کرنے کے آئینی حق سے روکا جا رہا ہے، پاکستان کے ہر شہر اور محلے سے لوگوں کو اکٹھا کرینگے، تحریک کو آگے کیسے لے کرجائیں گے اس حوالے سے لائحہ عمل دینگے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان کے لیے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، مذاکرات فیصلہ سازوں سے ہونگے ، ملک میں آئین اور قانون کی عملداری ہونی چاہیے ،ہم نے کوئی غلطی کی ہے تو سزا کے لیے تیار ہیں، اگر سازش ثابت ہو جائے تو مجھے چوک میں لٹکا دیں، اگر سزا پر بات آئے تو پھر سب کو سزا ہو گی۔
پی ٹی آئی کے اندر سے ہی تبدیلی آئے تو اچھا ہے، مولانا فضل الرحمان
علی امین کا مزید کہنا تھا کہ تحریک کا اعلان بانی نے کیا وہی لیڈ کریںگے ، ہماری گزارش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، عوام دیگر سیاسی جماعتوں کو مسترد کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہ میں نے اپنی غیرموجودگی میں مولانا فضل الرحمان کو ہرایا ،میرے بھائی نے بھی مولانا فضل الرحمان کو شکست دی، مولانا فضل الرحمان اپنے حلقے میں الیکشن نہیں لڑ سکتے۔
علی امین نے کہ مجھے کہا گیا فضل الرحمان کے بارے میں بات نہ کریں، مولانا فضل الرحمان اور پورے صوبے میں ان لوگ فارم 47 پر آئے، مولانا اندر سے اب بھی ملے ہوئے ہیں۔
