اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فواد چودھری کے مقدمات کا ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کر دی۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی فریق کا حق متاثر نہ ہو۔ اس لیے فریق کی موجودگی میں فیصلہ تحریر کیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مختلف اضلاع میں مقدمات ہونے کی وجہ سے درخواست گزاروں کو استثنا حاصل ہو رہا ہے۔ حتیٰ کہ فواد چودھری کو بھی لاہور ہائی کورٹ سے حاضری سے استثنا ملا ہے۔
اس موقع پر اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے اعتراض اٹھایا کہ لاہور ہائی کورٹ میں کیس میرٹ پر نہیں چلا۔ بلکہ صرف ناقابل سماعت قرار دے کر اعتراض عائد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف ہی سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے۔ اور لاہور ہائی کورٹ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو برقرار رکھنے کا باقاعدہ اسپیکنگ آرڈر جاری نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹڈاپ میگا کرپشن کیس، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی 9 مقدمات سے بری
عدالت نے قرار دیا کہ یہ اعتراضات بھی لاہور ہائی کورٹ نے ہی دیکھنے ہیں، اس لیے کیس وہیں سنا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے فواد چودھری کی جانب سے مقدمات کے ٹرائل کو حتمی فیصلے تک روکنے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل پر حکم امتناع دینا ہائی کورٹ کا اختیار ہے۔ فواد چوہدری نے شکایت کی کہ ان کا ٹرائل رات بارہ بجے تک جاری رہتا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شکر کریں عدالتیں کام کر رہی ہیں۔
سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی 9 مئی کے مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواست پر سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔
