سابق وزیرخارجہ و رہنما پاکستان پیپلز پارٹی حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگر بھارت یک طرفہ بیانیہ، قانون شکنی اور مکالمے سے انکار کی پالیسی پر چل رہا ہے، جبکہ پاکستان شفافیت سے حقائق پیش کر رہا ہے۔
الجزیرہ پر سرینواسن جین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ بھارت کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے، بھارت دہشتگردی پر صرف اپنے مؤقف کو تقویت دینے والے واقعات کو اجاگر کرتا ہے، اے پی ایس اور سمجھوتہ ایکسپریس جیسے واقعات کو نظر انداز کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری ثبوت کی بجائے ماضی کی روایات پر بھارت کا ساتھ دیتی ہے، جو کہ تعصب کی علامت ہے، بھارت بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کر کے ضد اور جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان بیانیے کی جنگ نہیں لڑ رہا، بلکہ عالمی برادری کو اپنی اصل صورتحال سے آگاہ کر رہا ہے ، تھنک ٹینکس جیسے بروکنگز کا بھارت کو بغیر ثبوت کے حق میں قرار دینا غیرمنصفانہ ہے۔
بھارت اور پاکستان کی نئی نسل اپنی قسمت خود لکھ سکتی ہے، بلاول بھٹو
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ تیسرے فریق کی ثالثی کا خیرمقدم کیا، ٹرمپ کی پیشکش کو قبول کیا جبکہ بھارت نے انکار کیا ، پاکستان نے اقوام متحدہ میں بڑی سفارتی کامیابیاں حاصل کیں، جن میں سلامتی کونسل کی نائب صدارت بھی شامل ہے۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کی فوج ایک پیشہ ور ادارہ ہے، جو شفافیت سے ملک کا دفاع کر رہی ہے، پاکستان نے ہمیشہ نقصان تسلیم کیا، ثبوت دکھائے اور دنیا سے رابطہ رکھا، جبکہ بھارت انکار کی پالیسی پر گامزن ہے،دنیا بھارت کے پاکستان، کینیڈا اور امریکہ جیسے ممالک میں اقدامات پر سوال اٹھانے لگی ہے۔
