مردان: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سیاحت کی وزارت وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔ اور سانحہ سوات پر ان کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سوات حادثے میں شہید ہونے والے ورثاء کے ساتھ تعزیت کرتا ہوں۔ وزیر اعظم سے ملاقات میں سوات کے سوشل ورکر کو سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کی بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ سوات کے شہداء کی فیملی کے لیے مالی امداد کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف واقع کا مقدمہ درج کرنا چاہیئے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پانی کو 3 گھنٹے ہوئے تھے اور 2 گھنٹے تک لوگ پھنسے تھے۔ لیکن ان کو نہیں نکالا گیا۔ 16 افراد شہید ہو گئے اس کے ذمہ دار وزیر اعلیٰ ہیں۔ حکمرانوں کو کرپشن کرنے سے فرصت ملے گی تو سیاحت کا کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ادارے کہاں پر تھے ریسکیو 1122 کہاں پر تھی۔ اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے یہ جرم ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ رات کو خواب دیکھتا ہے اور دن کو کہتا ہے کہ یہاں گورنر راج لگ رہا ہے ان کے ذہن پر گورنر سوار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہماری حکومت گر گئی تو سیاست چھوڑ دوں گا، علی امین گنڈاپور
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہم نے نہیں کہا تھا کہ بجٹ پاس نہ کریں۔ وزیر اعلیٰ خود کہہ رہے تھے بجٹ پاس نہیں کروں گا۔ اور اگر قانون کے مطابق بجٹ پاس نہ کرتے تو صوبے کا نظام چلانے کے لیے گورنر کے پاس اختیارات آجاتے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت تبدیل کرنے کا کوئی شوق نہیں بلکہ یہ خود نااہل ہیں۔ ہم لیگل ٹیم سے رابطہ کریں گے۔ وزیر اعلیٰ کے پاس سیاحت کی وزارت ہے اور وہ اس ساںحہ کے ذمہ دار ہیں۔ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کریں گے۔
