اسلام آباد: وفاقی بجٹ میں کئی اشیا مہنگی اور کئی سستی ہو جائیں گی۔ جس کی بنیاد ٹیکسز کے عائد ہونے، اضافے یا سبسڈیز کے ختم ہونے سے ہے۔
آئندہ مالی سال 26-2005 کے وفاقی بجٹ میں حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے نئی تجاویز شامل کی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کئی اشیا مہنگی اور بعض سستی ہونے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق 850 سی سی تک کی مقامی گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز ہے، جس کے نتیجے میں چھوٹی گاڑیاں مہنگی ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح بیکری مصنوعات، کھاد اور کیڑے مار ادویات پر بھی ٹیکس عائد کیے جانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ جس کے نتیجے میں یہ اشیا بھی مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب بجٹ میں سگریٹ اور مشروبات پر ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ جس کے باعث یہ مصنوعات سستی ہو سکتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہر سال سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کی پرانی روایت ختم کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بجٹ، خسارے کا تخمینہ 6 ہزار 501 ارب روپے
بجٹ میں پراپرٹی سیکٹر سے متعلق بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔ ذرائع کے مطابق پراپرٹی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ تاہم کیپٹل گین ٹیکس کی شرح بڑھانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والوں کو بھی ٹیکس کے دائرے میں لانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ خاص طور پر بیرونِ ملک سے فری لانسنگ یا سوشل میڈیا کے ذریعے کمانے والوں پر اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں سابقہ فاٹا ریجن کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ بن سکتی ہے۔ جس سے وہاں کے کاروباری حلقوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔
