وفاقی کابینہ نے وفاقی بجٹ 26-2025ء کی منظوری دے دی۔
کابینہ اجلاس وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت ہوا جس میں بجٹ کی منظوری دی گئی، کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے اور پینشنرز کی پینشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی۔
بجٹ میں 2.5 فیصد کی شرح سے کاربن لیوی عائد کئے جانے کی تجویز
وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت بہتر ہو رہی ہے، تمام اشاریے مستحکم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دستیاب وسائل میں بہترین بجٹ پیش کر رہے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں گنجائش سے زیادہ اضافہ کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اشرافیہ کو اس سوال کا جواب دینا ہو گا کہ انہوں نے کتنا ٹیکس دیا اور تنخواہ داروں نے کتنا دیا؟ ہمیں معاشی میدان میں بھی دشمن سے آگے نکلنا ہے، اب آگے بڑھنے کا موقع آ گیا ہے۔
ہم وہ نہیں جو بھارت ہمیں بنا کر پیش کرتا ہے، بلاول بھٹو
ان کا کہنا تھا کہا کہ عالمی طاقتیں فلسطین میں جنگ بندی کروائیں، فلسطین میں بے گناہ بچوں اور بچیوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں جو بربریت ہورہی ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، امید ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کو آزادی ملے گی۔
