امریکی شہر لاس اینجلس میں غیر قانونی تارکین وطن کی خلاف ٹرمپ انتظامیہ نے بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان دوسرے روز بھی شدید جھڑپیں ہوئیں ، پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔
ایلون مسک نے ڈیموکریٹ امیدواروں کی مالی مدد کی تو سنگین نتائج کا سامنا ہو گا، ڈونلڈ ٹرمپ
پریس سیکرٹری وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین سے نمٹنے کیلئے لاس اینجلس میں 2 ہزار نیشنل گارڈز تعینات کر دیئے ہیں۔
امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو لاکھوں تارکین وطن کی عارضی قانونی حیثیت منسوخ کرنیکی اجازت دی جس کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گورنر لاس اینجلس اور میئر اپنے فرائض ادا نہیں کر سکتے تو وفاقی حکومت کو کچھ کرنا ہو گا۔
دوسری جانب گورنرکیلیفورنیا کا کا کہنا ہےکہ اس اقدام سے تناؤ مزید بڑھے گا تاہم حکام لاس اینجلس میں صورتحال پر قابو پانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا10لاکھ تارکین وطن کوفوری امریکا چھوڑنے کاحکم
یاد رہے کہ امیگریشن پے رول امریکی قانون کے تحت ایک عارضی اجازت نامہ ہے جو غیر ملکیوں کو امریکا میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی کے لیے میکسیکو کی سرحد پر اس سہولت کا استعمال کیا تھا تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد اسے ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
