اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کی لائف لائن ہے۔ اور بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کا بھارتی خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے سفارتی سطح پر پاکستان کا زبردست مقدمہ لڑا۔ جبکہ پاکستان نے سفارتی اور بیانیے کی سطح پر بھی جنگ جیتی۔ کشیدگی میں پاکستانی قوم نے مثالی یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ اور بھارتی میڈیا نے جھوٹ اور فیک نیوز کا سہارا لیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ذمہ داری کے ساتھ بھارتی جارحیت کا جواب دیا۔ کلبھوشن یادیو کو بلوچستان سے پکڑا گیا تھا۔ اور ہم تو کہہ رہے ہیں بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے فتنہ الہندوستان ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے اسلحہ اور فنڈنگ فراہم کرتا ہے۔ جبکہ مودی اپنی تقاریر میں بلوچستان کا نام لیتا ہے۔ بھارت ہمیشہ اپنی پراکسیز کے ذریعے لڑتا ہے۔ لیکن بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کا بھارتی خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔ یہ مٹھی بھر دہشت گرد پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس کا واقعہ پاک فوج کی پیشہ وارانہ مہارت کی مثال ہے۔ جبکہ بھارتی میڈیا پر جعفر ایکسپریس کے واقعہ کے ذمہ دار انٹرویو دے رہے تھے۔ بھارت پوری دنیا میں دہشت گردی کے واقعات کرتا ہے۔ اور بھارت دوسروں پر الزام لگاتا ہے تاہم تحقیقات سے بھاگ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 30 کروڑ ڈالر قرض پروگرام پر دستخط
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افواج پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعہ کی تحقیقات کی دعوت دی تھی۔ تاہم بلوچستان پاکستان کی لائف لائن ہے اور ہر قیمت میں وہاں استحکام لائیں گے۔ ریاست یقینی بنائے گی کہ بلوچستان مکمل طور پر پرامن ہو۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی دہشت گردی کینیڈا، امریکہ اور آسٹریلیا تک پہنچ چکی ہے۔ نریندر مودی نے 1971 میں مکتی باہنی کی حمایت کا اعتراف کیا تھا۔ ہر فورم پر شکست کے بعد بھارت جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ اور دوسرے ملکوں میں دہشت گردی بھارت کی ریاستی پالیسی ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان بہترین کام کر رہے ہیں۔ اور بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں وفد نے نیویارک میں اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ پاکستانی وفد عالمی سطح پر مؤقف کو اجاگر کر رہا ہے۔
