اسلام آباد: پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی 52 سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب پر فافن نے رپورٹ جاری کر دی۔
فافن کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی نشست پی پی52 سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب میں چند معمولی بے ضابطگیاں رپورٹ ہوئیں۔
ایک پولنگ اسٹیشن پر پولیس کی جانب سے گنتی کے عمل میں خلل ڈالنے کی رپورٹس موصول ہوئیں۔ اور مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ میں معمولی کمی آئی۔ غیر درست ووٹوں کی تعداد میں بھی کمی دیکھی گئی۔ ووٹر ٹرن آؤٹ 50 فیصد تھا جو ضمنی انتخاب میں کم ہو کر 45 فیصد رہ گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیت کا فرق 8 ہزار 535 ووٹوں سے بڑھ کر 39 ہزار 684 ووٹوں تک جا پہنچا۔ فارم47 رات 1:15 پر مکمل کیا گیا، جو قانونی حد 2 بجے سے قبل تھا۔
پولنگ اسٹیشن نمبر 169 میں گنتی کے دوران پولیس نے مداخلت کی پولیس اہلکاروں نے پارٹی ایجنٹس اور مبصرین کو ہال سے باہر نکال دیا۔ انتخابی مواد اور عملے کو ساتھ لے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: ملیر جیل سے فرار قیدی کی ماں نے مثال قائم کر دی
فافن کو اس پولنگ اسٹیشن کے ضمنی انتخاب کے نتائج کی کاپی حاصل نہیں ہو سکی۔ خواتین کا ٹرن آؤٹ 47 فیصد سے کم ہو کر 39 فیصد اور مردوں کا ٹرن آؤٹ 53 فیصد سے گھٹ کر 50 فیصد رہا۔ فارم 47 کے مطابق مسلم لیگ ن کا ووٹ شیئر 41 فیصد سے بڑھ کر 59 فیصد ہو گیا۔ پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کا ووٹ شیئر 35 فیصد سے کم ہو کر 29 فیصد رہ گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 49 فیصد بوتھس پر ووٹر کا نام بلند آواز سے پکارنے کی قانونی ذمہ داری پوری نہیں کی گئی۔ پولنگ اسٹیشنز پر گنتی کا عمل عمومی طور پر منظم تھا۔ اور 3 فیصد اسٹیشنز پر فارم 46 فراہم نہیں کیا گیا۔ گنتی کے وقت فافن نے 31 پولنگ ایجنٹس سے انٹرویو کیے گئے۔ جس میں تمام نے اطمینان کا اظہار کیا۔
