وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ رواں سال ترقیاتی بجٹ کیلئے 10 کھرب روپے کاتخمینہ دیا گیا ہے،وزیراعظم کی ہدایت پر 120 ارب روپے این 25 شاہراہ کے لیے رکھے گئے ہیں۔
سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2018سے 2022 کے دوران کئی گنا قرضے لیے گئے ،صوبوں اور وفاقی وزارتوں کیساتھ ملکر لائحہ عمل بنارہے ہیں،664ارب روپے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے رکھنے کاتخمینہ ہے۔
جنوبی افریقی وکٹ کیپر ہینرک کلاسن کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
سوشل سیکٹر کے لیے 150 روپے،ضم شدہ اضلاع کے لیے 70 ارب روپے،آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 64 ارب روپے رکھے گئے ہیں،جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
حکومت نے مختلف منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت بھی کی ہے،معاشی شرح نمو4.2 فیصد رہنے کی توقع ہے،ترسیلات زر میں 10ارب ڈالر کااضافہ ہوا ہے،اوورسیز پاکستانیز حکومت پر بھرپوراعتماد کااظہارکررہےہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس محصولات میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے،برآمدات کو 35ارب ڈالرتک لے کرجانے کاہدف ہے،مضبوط دفاع کے لیے مضبوط معیشت ناگزیر ہے،موسمیاتی تبدیلی اور پانی سے متعلق مسائل حل کرنا ہونگے۔
پاکستان نے بھارت کے 4 رافیل سمیت 6 طیارے مار گرائے،وزیراعظم
صحت،تعلیم سمیت بنیادی سہولتوں کی بہتر فراہمی کیلئے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ضروری ہے،حکومت بہتری گورننس کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرے گی،دیامربھاشا ڈیم کو جلد سےجلد مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔
حیدرآباد سکھر موٹروے کو تین سال میں مکمل کریں گے،بلوچستان کیلئے ترقیاتی پروگرام میں 250 ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔
