ہم ٹی وی کے بینر تلے پیش کیا جانے والا ڈرامہ “جڑواں”حال ہی میں اپنے اختتام کو پہنچا۔ یہ ڈرامہ نہ صرف ریٹنگز کے میدان میں کامیاب رہا بلکہ اس نے ناظرین کو جذباتی طور پر بھی اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ ہر ہفتے ناظرین اس کے نئے موڑ ، کرداروں کی کشمکش اور جذباتی مناظر کے منتظر رہتے تھے اور یہی اس کی اصل کامیابی تھی۔
جڑواں کی کہانی دو بہنوں سارا اور زارا کے گرد گھومتی تھی جو بچپن میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئی تھیں ۔ بظاہر ایک جیسے چہرے رکھنے والی ان جڑواں بہنوں کی زندگیاں، ماحول، پرورش اور شخصیات ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھیں۔ سارا ایک نرم مزاج، خوفزدہ اور محتاط لڑکی کے طور پر دکھائی گئی تھی جو باپ اور پھوپھی کے زیرسایہ پلی بڑھی تھی۔ دوسری طرف زارا ایک خود اعتماد، بے باک اور حقیقت پسند لڑکی تھی جس کی پرورش اس کی ماں نے کی تھی جو ماضی کی تلخیوں سے اسے محفوظ رکھنے کی تگ و دو میں مصروف رہی۔
ناظرین ہم ٹی وی کے ایک اور شاہکار’’دستخط‘‘ کو دیکھنے کیلئے بے چین
یہ کہانی صرف بہنوں کی جدائی پر نہیں بلکہ شناخت، قسمت، والدین کے فیصلوں اور خاندانی تعلقات کی پیچیدگیوں پر مبنی تھی۔ ناظرین نے ہر قسط میں ان بہنوں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت، غلط فہمیوں اور جذباتی کشمکش کو شدت سے محسوس کیا۔
ڈرامے کی کامیابی میں سب سے نمایاں کردار اداکارہ عینا آصف کا تھا جنہوں نے سارا اور زارا جیسے دو مختلف کرداروں کو بے مثال مہارت سے نبھایا۔ ان کے لہجے، باڈی لینگویج، تاثرات اور رویوں میں اس قدر فرق تھا کہ ناظرین کو دونوں کردار الگ الگ شخصیات محسوس ہوئے۔
عینا آصف نے اپنے مختصر کیرئیر میں ہی ڈرامہ انڈسٹری میں اپنی مضبوط جگہ بنا لی ہے۔ ان کے دیگر مقبول ڈراموں میں ہم تم، پنجرہ، دل مانے نہ، پہلی سی محبت اور بدنصیب شامل ہیں جبکہ ان کا حالیہ پروجیکٹ “وہ ضدی سی” بھی شائقین نے پسند کیا تھا۔ ان کی اداکاری میں سنجیدگی، تسلسل اور فطری اظہار قابل تعریف رہا۔
ہم ٹی وی کا نیا ڈرامہ “اگر تم ساتھ ہو “تیزی سے مقبول ہونے لگا
ڈرامے کے معاون اداکاروں میں عدنان رضا میر، سبرین ہسبانی، ژالے سرحدی، شہود علوی، محمد احمد اور نادیہ حسین جیسے سینئر اداکارشامل تھے ۔ ہر کردار کہانی میں ایک مقصد کے تحت شامل کیا گیا تھا اور ہر ایک کی کارکردگی نے ڈرامے کے جذباتی رنگوں کو اور نمایاں کیا۔
ڈرامے کی ہدایتکاری فرقان آدم نے کی تھی جنہوں نے ہر منظر کو جذباتی گہرائی اور فنکارانہ حساسیت کے ساتھ پیش کیا۔ تحریر فضا جعفری اور عروج بنت ارسلان نے کی تھی جنہوں نے عام سی کہانی کو خاص بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ پروڈکشن کی ذمہ داری مومنہ درید اور بابر جاوید نے مشترکہ طور پر نبھائی اور ان کی پیشکش نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ڈرامہ تکنیکی لحاظ سے بھی اعلیٰ معیار کا ہو۔
جڑواں صرف ایک کہانی نہیں تھی بلکہ ایک تجربہ تھا۔ اس نے ناظرین کو خاندان، شناخت، محرومی، قربانی اور قسمت جیسے موضوعات سے جوڑ کر رکھا، روزمرہ زندگی کے دکھ درد اور تعلقات کی نزاکت کو اس انداز میں دکھایا گیا کہ ناظرین خود کو ان کرداروں کیساتھ چلتا پھرتا محسو س کرنے لگے۔ ڈائیلاگ ، میوزک، سینماٹوگرافی اور سیٹ ڈیزائن سب کچھ معیار کے عین مطابق تھا۔
قرض جاں ‘ ہم ٹی وی کا نیا دھماکہ
اگرچہ کچھ ناظرین نے ڈرامے میں رفتار کی سستی یا بعض ثانوی کرداروں کی کمزوری کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن مجموعی طور پر یہ ایک ایسا ڈرامہ تھا جسے ناظرین نے دل سے سراہا اور بھرپور پسند کیا۔
ہم ٹی وی کا ڈرامہ ’’جڑواں‘‘ ان چند ڈراموں میں شمار ہوتا ہے جو دل ، دماغ اور روح تینوں کو متاثر کرتے ہیں۔ عینا آصف کی بے مثال اداکاری، مضبوط تحریر، جذباتی مناظر اور خاندانی اقدار پر مبنی کہانی نے اسے ایک کلاسک کا درجہ دے دیا۔ یہ ڈرامہ نہ صرف ناظرین کے ذہنوں میں نقش رہا بلکہ اس نے یہ ثابت کیا کہ سادہ مگر سچی کہانیاں ہمیشہ دلوں میں گھر کر لیتی ہیں۔
اگر آپ نے “جڑواں” دیکھا تھا تو یقینا یہ آپ کیلئے بھی ایک ایسا سفر رہا ہو گا جسے آپ برسوں یاد رکھیں گے اور اگر نہیں دیکھا تو جان لیجئے کہ آپ نے ایک جذباتی شاہکار کو مس کر دیا-
