روس نے قیدیوں کے تبادلے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف پر مسلسل دوسرے روز فضائی حملے کیے جن میں 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق اتوار کی صبح میزائل اور ڈرونز سے حملے کئے گئے ، روسی حملے میں رہائشی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا پہلا مرحلہ مکمل
دوسری جانب یوکرین کی فضائیہ نے بتایا کہ ڈرونز، بیلسٹک اور کروز میزائل سے حملے کئی شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے تاہم بنیادی توجہ دارالحکومت کیف پر رہی۔
صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر رات ہماری افواج زندگیاں بچانے کی کوشش کرتی ہیں، روس کا یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کے جاری رہنے کی ذمہ داری صرف ماسکو پر ہے۔
روس یوکرین مذاکرات کی میزبانی کیلئے ویٹی کن کی پیشکش موصول، کریملن
حالیہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب بین الاقوامی برادری روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس کے علاوہ قیدیوں کے تبادلے کے دوسرے مرحلے میں ہفتے کو 600 سے زائد روسی اور یوکرینی فوجیوں کو رہا کیا گیا۔
