سابق وفاقی وزیراور ن لیگ کے سینئررہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت بھارت کے خلاف بیک وقت چار محاذوں پرجنگ لڑنا پڑ رہی ہے جن میں فوجی، سفارتی، بین الاقوامی قوانین اورابلاغ کا میدان شامل ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئےخرم دستگیرنے کہا کہ وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کا مینڈیٹ واضح ہے اورماہرین پرمشتمل ٹیم جلد عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا مؤقف پیش کرے گی۔
رافیل جہازوں کا حشر دیکھ کر وکرانت میدان جنگ سے بھاگ نکلا،وزیراعظم
انہوں نے کہا کہ بھارت دہشتگردی کی پشت پناہی، پانی کو بطورہتھیاراستعمال اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی جیسے جرائم میں ملوث ہے اگروسیع ترپارلیمانی مشاورت ہوئی تو پی ٹی آئی کو بھی شامل کیا جائیگا۔
لیکن ساتھ ہی سوال اٹھایا کہ کیا ایک معرکہ حق کی وجہ سے پی ٹی آئی کی تین سالہ افواج مخالف مہم کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگرقومی مفادات کوترجیح دینا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کی بدمعاشی پرمبنی پالیسیوں کودنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہے اوروفد واپسی پرپارلیمان کوتفصیلی بریفنگ دے گا۔
