اسلام آباد: نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم الرٹ ہیں لیکن بھارت نے جارحیت کی تو بھرپور جواب دیں گے۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن و خوشحالی ہم سب کا مشترکہ ہدف ہونا چاہیے۔ اور دنیا اس وقت مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کا پائیدار حل ضروری ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے دنیا کے امن کو سنگین خطرات ہیں۔ اقوام متحدہ مقبوضہ علاقوں سے متعلق واضح قراردادیں منظور کرچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اور پاکستان نے 2022 میں تباہ کن سیلاب کا سامنا کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کیا گیا۔ جو بین الاقوامی دہشتگردی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ کئی بھارتی ریاستوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کا داعی رہا ہے۔ اور پاکستان نے ہمیشہ جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی۔ مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کی گئی۔ تاہم خطے میں امن کے لیے پاکستان پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کا مقصد بھارت میں جاری تحریکوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ اور بھارتی اقدامات خطے میں امن کے لیے خطرہ ہیں۔ بھارت نے پاکستان پر یکطرفہ اور بے بنیاد الزامات لگائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے نوجوان مودی کی کھوکھلی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں، گورنر پنجاب
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ اور ان پر عملدرآمد بھی کیا گیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کو بھرپور جواب دینے کا فیصلہ ہوا۔ بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا مجاز نہیں اور ہم اپنے حصے کا ایک بوند پانی بھی نہیں چھوڑیں گے۔ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد 10 منٹ میں تحقیقات ہو گئیں اور پاکستان پر الزام لگا دیا گیا۔ بھارت دنیا کو بیوقوف نہ بنائے۔ اور پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ ہماری سرزمین دہشتگردی کے لیے کبھی استعمال نہیں ہو گی۔ لیکن بھارت خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارتی فضائیہ نے مہم جوئی کی کوشش کی۔ اور ہم نے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ ہم الرٹ ہیں اور بھارت نے جارحیت کی تو بھرپور جواب دیں گے۔ عالمی رہنماؤں نے پاکستان کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی صورت میں پہلا قدم نہیں اٹھائے گا۔ تاہم جارحیت مسلط کی گئی تو پورے قومی عزم اور طاقت کے ساتھ جواب دیں گے۔ ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت ہماری پالیسی ہے۔
