ملک میں دس ہوائی اڈوں کے آپریشن کئی سالوں سے بند رہنے کا انکشاف سامنے آیا ہے ،کئی ائیرپورٹس 20 سال سے زائد عرصے سے بند ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق بند ائیرپورٹس پرعملہ کام کیلئے موجود ہے جس پر سالانہ کروڑوں روپے کے اخراجات ہورہے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا
بند ائیرپورٹس کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ہیں،وزارت دفاع نے ممبرقومی اسمبلی صوفیہ سعید کے سوال کے جواب میں تفصیلات جمع کرائی ہیں۔
بند ائیرپورٹس میں ڈی آئی خان، بنوں،خصدار،مظفرآباد، راولاکوٹ، پاراچنار، جیوانی ،اوماڑو ،سہون شریف اور سبی کے ائیرپورٹس شامل ہیں۔
خصدارائیرپورٹ 2002 سے بند پڑا ہے لیکن ملازمین موجود ہیں،مظفرآباد ائیرپورٹ 2006 سے بند لیکن ملازمین کیلئے سرکاری اخراجات جاری ہیں۔
آبیانہ اور فکس ٹیکس میں چھوٹ، 4ماہ مفت سٹوریج کی سہولت،گندم اور آٹا کی نقل وحمل پر پابندی ختم
اسی طرح جیوانی ائیرپورٹ2004 ، سبی ائیرپورٹ 2010 سے بند پڑے ہیں لیکن ملازمین تنخواہیں لے رہے ہیں،ڈی آئی خان ائیرپورٹ بھی بند لیکن عملہ کام پر موجود ہے،تمام بند ائیرپورٹس پر کوئی کارگوآپریشن بھی نہیں ہورہا۔



