قومی ادارہ صحت نے کانگو بخار اور ہیٹ اسٹروک سے متعلق ایڈوائزری جاری کر دی۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ کانگو بخار ایک خاص قسم کے وائرس سے ہونے والی بیماری ہے۔ کانگو بخار جانوروں کے بالوں میں چھپی چیچڑیوں میں پایا جاتا ہے۔
انسانوں میں اس وائرس کی منتقلی چیچڑی یا متاثرہ جانوروں کے خون سے ہوتی ہے، یہ وائرس متاثرہ شخص سے صحت مند شخص میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق 2024میں پاکستان میں کانگو وائرس کے61 کیسز رپورٹ ہوئے ، عیدالاضحٰی کے موقع پر کانگو بخار کے پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
کانگو ، کرسمس کیلئے گھر جانیوالوں کی کشتی الٹ گئی ، 40 افراد ہلاک ، 100 سے زائد لاپتہ
وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے ، پاکستان کو شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق ہر سال ملک میں گرمی کی لہر کے خطرات اور اثرات میں اضافہ ہو رہا ہے ، ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے بیماری اور اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے، سورج کی روشنی اورڈی ہائیڈریشن سے بچنا ہیٹ اسٹروک کو روک سکتا ہے۔
