صدر ہم نیٹ ورک سلطانہ صدیقی کو بکنگھم شائر نیو یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نواز دیا۔
برطانیہ کی بکنگھم شائر نیو یونیورسٹی اور سکلز ریٹر کی طرف سے انٹرنیشنل سینٹر آف ایکسیلینس کے اشتراک سے پوسٹ گریجویٹ سرٹیفکیٹس کورسز پاکستان میں متعارف کرا دیے گئے۔اس پروگرام کے تحت پاکستانی طالب علم برطانوی ایجوکیشن سسٹم سے استفادہ کریں گے۔
اس تقریب میں صدر ہم نیٹ ورک سلطانہ صدیقی کی خدمات میں انہیں یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی گئی، قائم مقام برطانوی ڈپٹی ہائی کمیشن ایچ ای مارٹن ڈاؤسن نے صدر ہم نیٹ ورک کی سماجی خدمات کی تعریف کی، میڈیا انڈسٹری کے لئے ان کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
قائم مقام برطانوی ڈپٹی ہائی کمیشن ایچ ای مارٹن ڈاؤسن نے کہا کہ یہ واقعی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی، میں سلطانہ صدیقی کو بہت اچھے سے جانتا ہوں، اپنے تین سال اور چھ مہینے کے عرصے میں مجھے نہ صرف میڈیا پلیٹ فارمز پر بلکہ یہاں ہونے والی کچھ سماجی سرگرمیوں میں بھی ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا موقع ملا۔
اور میرے خیال میں ان کی اعزازی ڈاکٹریٹ کی جو پذیرائی ہوئی ہے وہ لاجواب ہے۔ وہ ایک خاص خاتون ہیں میری نظر میں وہ واقعی ایک حقیقی سپر اسٹار ہیں۔ آج کی شام انہیں سپورٹ کرنا اور انہیں یہ ایوارڈ وصول کرتے دیکھنا میرے لئے خوشی کی بات ہے۔
سندھ حکومت ساتھ دے تو بہت خوبصورت میڈیا یونیورسٹی بناکر دکھائیں گے، سلطانہ صدیقی
صدر ہم نیٹ ورک سلطانہ صدیقی نے اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے آئی سی ای کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی، انہوں نے کہا کہ بچیوں کو اچھی تعلیم دے کر ملک کا مستقبل سنوارا جا سکتا ہے۔
صدر ہم نیٹ ورک نے کہا کہ عورتوں کو ایجوکیشن کا اختیار دیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ ملک کہاں سے کہاں نکل جائے گا، اگر عورتوں کو پڑھائیں گے تو نسلوں کی نسلیں اچھی ہو جائیں گی۔
صدر ہم نیٹ ورک سلطانہ صدیقی کو دوسری مرتبہ ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا ہے اس سے قبل پاکستان کی گرین وچ یونیورسٹی کی جانب سے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی گئی تھی۔
اس سے قبل پرووائس چانسلر ایکسٹرنل کولیبوریشن بکنگھم شائر یونیورسٹی پروفیسر سارہ ولیم نے کہا کہ ہم آخر کار پڑھاتے ہیں، ہم اپنے لئے نہیں پڑھاتے، ہم آخر کار تعلیم کیوں دیتے ہیں، ہم اس لئے پڑھاتے ہیں کہ کیونکہ ہم نوجوانوں کی زندگیوں کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم انہیں بہتر مستقبل دینا چاہتے ہیں، انہیں وہ مواقع دینا چاہتے ہیں جو شاید انہیں ویسے نہ مل سکیں اور اس لئے اگر ہم اپنی توجہ ان پر، ان کی ضروریات اور ان کے خوابوں، ان کی امیدوں، ان کی خواہشات پر مرکوز کرتے ہیں، یہ ہمیں بہتر استاد بناتا ہے ہم ایسا مواد پڑھائیں گے جو ان کے لئے زیادہ موزوں گا جو انہیں اس دنیا کے لئے بہتر طور پر تیار کرے گا جس میں وہ جا رہے ہیں۔
اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسکلز ریٹر آئی سی ای پاکستان انکوبیشن ڈاکٹر گلفام خان خالد بگھور نے کہا کہ میں یہاں صرف ان پہلوؤں پر توجہ دینے آیا تھا اورایک استادہ کے طور پر میں سمجھتا ہوں کہ طالب علم بننا آسان ہے لیکن استاد بننا مشکل ہے، تو میرا آخری لفظ ہے، ٹچ اسٹون بنو کبھی بھی سونا بننے کی کوشش نہ کریں، پارس بن سونا نہ بن، لوگ آئیں، آپ کو چھوئیں اور سونا بن جائیں۔ آپ سونا بن جائیں یہ میرا اور ہم میں سے ہر استاد کا حتمی مقصد ہونا چاہیے۔
