امریکا اور چین کے درمیان ٹیرف کی جنگ شدت اختیار کر گئی ، امریکہ نے چین پر 104 فیصد ٹیرف عائد کیا تو جواب میں چین نے امریکی درآمدی مصنوعات پر 84 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا۔
چینی وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی مصنوعات پر 104 فیصد ٹیرف نافذ کیے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔
ادھر چینی وزارت تجارت نے مزید 6 امریکی کمپنیوں کو ’غیر معتبر اداروں کی فہرست‘ میں شامل کرلیا ہے جس سے ان کمپنیوں کے لیے چین میں کاروبار کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
اس سے پہلے ترجمان وائٹ ہاوس کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ چین کے خلاف 104 فیصد ٹیرف 9 اپریل بدھ سے نافذ ہو گا، چین کا ٹیرف پر جوابی کارروائی کرنا غلطی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چین امریکہ کیساتھ معاہدہ چاہتا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کیسے کرنا ہے، اگر چین معاہدہ کرے تو صدر ٹرمپ ناقابل یقین حد تک مہربان ہوں گے۔
واضح رہے صدرٹرمپ نے بیجنگ کو منگل تک امریکی سامان پر جوابی ڈیوٹی ختم کرنے کی ڈیڈلائن دی تھی ، صدرٹرمپ نے ڈیوٹی ختم نہ کرنے پر چین پر ٹیرف میں مزید 50 فیصد اضافے کی دھمکی دی تھی۔
