اسٹیم انجن سے ڈیزل اور الیکٹرک انجن تک لاہور کا ہربنس پورہ ریلوے اسٹیشن جس نے پاکستان ریلوے کا ارتقاء دیکھا ہے۔ انگریز راج، تحریک آزادی اور قیام پاکستان کا گواہ بھی ہے آج کھنڈر میں بدل چکا ہے۔در و دیوار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ عہد کے سپہ سالار تیجا سنگھ کے چھوٹے بھائی ہربنس سنگھ نے 1886 میں لاہور کے مشرق میں ایک گاوں آباد کیا جسکا نام پربنس پورہ رکھا گیا۔ لاہور سے بھارت کو جانے والے راستے پر موجود ہربنس پورہ میں برطانوی ائیر فورس کے اسلحہ ڈپوز اور ورکشاپس تھیں اسی اہمیت کے پیش نظر اٹھارہ سو نوے میں انگریز راج نے تاریخی ہربنس پورہ ریلوے اسٹیشن کی بنیاد رکھی۔
لگ بھگ ڈیڑھ سو سال گزر گئے۔ شان و شوکت تو نہیں رہی مگر اس ریلوے اسٹیشن کے کھنڈرات آج بھی ہربنس پورہ میں موجود ہیں۔ اب نہ تو پلیٹ فارم پر گھنٹیاں بجتی ہیں اور نہ ہی ٹکٹ گھر کی کھلی کھڑکی سے کوئی ریل گاڑی سیٹی بجا کر رکتی ہے۔
ریل گاڑیوں میں پانی بھرنے اور امرتسر سے آنے والے اسٹیم انجنجز کو ٹھنڈا کرنے کے لئے انیس سو تیس میں یہاں سولہ واٹر پمپس لگائے گئے۔ تقسیم سے قبل تین پلیٹ فارمز اور سولہ ریلوے لائنوں پر روزانہ اڑتالیس گاڑیاں آتی جاتیں مگر سرحد پر لکیر کھینچی تو رفتہ رفتہ یہ اسٹیشن بھی ویران ہو گیا۔
تقسیم ہند کے وقت بھارت سے مہاجرین کا پہلا قافلہ اسی ریلوے اسٹیشن پہنچا تھا، اس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں بھارت سے آنے والے مہاجرین ہربنس پورہ اسٹیشن اترتے اور آس پاس کے دیہات اور شہروں میں آباد ہوتے رہے۔
پاکستان ریلوے بستر مرگ پرکیوں؟ ہم انویسٹی گیٹس اہم تحقیقات سامنے لے آیا
ہربنس پورہ اسٹیشن کی عمارت چھوٹی مگر مضبوط پختہ اینٹوں سے بنی تھی، جس میں ٹکٹ گھر، کانٹا روم اور اسٹیشن ماسٹر کا کمرہ شامل تھا۔ جن کمروں میں کبھی مسافروں کے قصے کہانیاں، سفر کی داستانیں گونجتی تھیں ، آج در و دیوار ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، چھتیں بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ تیل ، بتی کے گودام بکنگ آفس اور سٹاف رومز ،، مویشیوں کے باڑے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد نوے کی دہائی تک ہربنس پورہ اسٹیشن سے اکا دکا مال گاڑیاں اور ہفتے میں دو بار سمجھوتہ ایکسپریس لاہور سے بھارت کے سفر میں اس اسٹیشن سے گزرتی۔ تیرہ مارچ انیس سو اکانوے کو آخری ریل گاڑی نے سیٹی بجائی، ٹکٹ گھر بند ہوا اور مسافر ہربنس پورہ اسٹیشن چھوڑ گئے۔ اس کے بعد کبھی یہاں گاڑی نہ رکی۔
سولہ ریلوے لائنز میں سے گاڑیوں کے گزرنے کے لئے صرف دو ٹریکس آپریشنل ہیں۔انیس سو چھ کا بنا ہوا ۔ایک واٹر پمپ کی باقیات بھی تاریخ کی یادگار کے طور پر محفوظ رہ گئی ہے ۔
اسٹیشن کے اطراف میں پٹریوں پر ریلوے کی جلی ہوئی یا حادثات کی شکار ٹرین کی بوگیاں کھڑی عہد گذشتہ کا نوحہ سنا رہی ہیں۔ بیشتر حصوں پر لوگوں نے قبضہ کر کے رہائش اختیار کر لی ہے،، جنہیں عمارت نہ ملی ،، انہوں نے تو جھونپڑیوں کی بستی سجا لی۔
ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ملحقہ ٹریک تبدیل کرنے والا لیور سسٹم کے بھی بس اب نشان باقی ہیں، تاریخی عمارات زیر استعمال نہ بھی رہیں تو بھی قومی ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں ،،، ڈیڑھ سو سال پرانی اور پاکستان آنے والے مہاجرین کے پہلے پڑاو کی یادگار، ہربنس پورہ ریلوے اسٹیشن کو بھی محفوظ کیا جانا ضروری ہے تاکہ نئی نسل تاریخ کے پنوں میں اسے یاد رکھ سکے۔
