سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ آرمی ایکٹ کے مطابق فوجی عدالتوں کے کیا اختیارات ہیں؟۔
سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔
سپریم کورٹ نے26ویں آئینی ترمیم کیس میں تمام فریقین کونوٹسز جاری کر دیے
دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایف بی علی کیس کا 1962 کے آئین کے مطابق فیصلہ ہوا اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ایکٹ کے مطابق فوجی عدالتوں کے کیا اختیارات ہیں؟ کوئی شخص جو فوج کا حصہ نہ ہو صرف جرم کی بنیاد پر فوجی عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے؟۔
سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ ایف بی علی کیس میں بھی کہا گیا ہے کہ سویلینز کا ٹرائل بنیادی حقوق پورے کرنے کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ایف بی علی خود بھی ایک سویلین ہی تھے، ان کا کورٹ مارشل کیسے ہوا؟ جس پر سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ عدالت نے قرار دیا تھا کہ بنیادی حقوق کی فراہمی ضروری ہے، عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ اسی لیے ایوب خان کے دور میں حبیب جالب نے نظم لکھی میں نہیں مانتا، ایسے دستور کو میں نہیں مانتا، ایف بی علی بعد میں کینیڈا شفٹ ہوئے جہاں وہ کینیڈین آرمی کے ممبر بن گئے۔
اے پی ایس حملے میں گٹھ جوڑ موجود تھا تو فوجی عدالت میں ٹرائل کیوں نہیں ہوا؟ آئینی بینچ
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس میں کہا کہ ہم ایک فیصلے کے خلاف اپیل سن رہے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا اس اپیل میں ہم 187 کے اختیار استعمال کرسکتے ہیں؟۔
جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ ہمارے آرمی ایکٹ جیسی سیکشن ٹو ڈی کیا دنیا میں کہیں ہے؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ میں نے بہت ریسرچ کی ایسی کوئی سیکشن دنیا میں نہیں، ہمارا آئین کا آرٹیکل 175 تین آزاد ٹرائل کو یقینی بناتا ہے، بھارت میں ہمارے آئین کے آرٹیکل 175 تین جیسی کوئی چیز شامل نہیں۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں اس کے باوجود محض اصول کی بنیاد پر عدالتوں نے ٹرائل کی آزادی کو یقینی بنایا ہے، ہمارا تو آرٹیکل 175 تین آزاد ٹرائل کا مکمل مینڈیٹ دیتا ہے، شفاف ٹرائل کسی آزاد ٹریبونل میں ہی ممکن ہے فوجی عدالتوں میں نہیں۔
جسٹس مظہر نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب سویلین آرمڈ پرسن کو اکسانے کی کوشش کرے، کیا آرٹیکل 10 اے صرف سویلین کی حد تک ہے یا اسکا اطلاق ملٹری پرسن پر بھی ہوتا ہے۔
ملٹری کورٹس سے رہائی پانے والے مجرمان کی “رحم کی پٹیشنز” سامنے آگئیں
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ صرف اپنے کیس تک محدود رہیں، ہم باقی سوالات کسی اور کیس میں دیکھ لیں گے، سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ آرٹیکل 175 کی شق تین کا فائدہ سویلین اور آرمڈ فورسز دونوں کو دینا ہو گا۔
جسٹس امین الدین خان کہا کہ ہمارا قانون الگ ، بھارت کا قانون الگ ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سویلین اور ملٹری پرسنز دونوں پاکستان کے شہری ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مجھے کہا جارہا ہے تمہیں رینجر اہلکاروں کے قتل پر ملٹری کورٹس لے جائیں گے، ہو سکتا ہے مجھے سات فروری کو اسی کیس میں گرفتار کر لیا جائے، عدالت ان دفعات کو بحال کرتی ہے تو ان کا ایسا ہی استعمال ہو گا۔
