اسلام آباد (زاہد گشکوری، مجاہد حسین ، ابوبکر خان) پچھلے ایک سال میں پاکستان میں ریکارڈ 69 پولیو کیسز سامنے آئے ہیں ، گزشتہ نو سال میں پورے ملک سے 420 پولیو کیسز رپورٹ کئے گئے ہیں۔
پاکستان میں پولیوکے خاتمے کیلئے پچھلے بارہ سال کے دوران گیارہ ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، پولیووائرس کو شکست دینے کیلیے اس رقم کے علاوہ پانچ سال میں پاکستان کو انٹرنیشل ڈونرز سے ایک ارب ڈالر اضافی بھی ملے ہیں۔
دنیا میں صرف پاکستان اورافغانستان میں پولیووائرس موجود ہے، 1988 میں عالمی طور پر انسداد پولیو مہم شروع ہوئی تھی جب دنیا بھر میں پولیو روزانہ ایک ہزار سے زیادہ بچوں کو مفلوج کر رہا تھا۔ لیکن لگ بھگ تمام ممالک نے پولیو کیخلاف جنگ شروع کی جس سے چند سالوں میں پولیو کیسز میں 99 فیصد کمی آئی ، پولیوکیخلاف جاری جنگ میں ڈھائی ارب سے زائد بچوں کو پولیو کیخلاف مکمل ویکسین دی جا چکی ہے۔
2025 کا پہلا پولیو کیس ڈیرہ اسماعیل خان سے رپورٹ
ترقی یافتہ ممالک، بین الاقوامی اداروں اور مخیرحضرات کے تعاون سے پولیوکیخلاف جاری جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کئے گئے ہیں، تاہم پولیو وائرس کے آخری ایک فیصد کیسز کو مکمل طور پر ختم کرنا پاکستان اور افغانستان میں اب بھی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
سماجی تنازعات، پولیو کے قطرے پلانے کیخلاف منفی پراپیگنڈہ ، سیاسی عدم استحکام ، دور دراز آبادیوں تک رسائی میں مشکلات ، افغان مہاجرین کے مسائل اور کمزور بنیادی صحت کے نظام کا ڈھانچہ پولیو کے خاتمے میں بڑی رکائوٹ ہے۔
پاکستان میں پولیو وائرس کی موجودگی کے انکشاف کے بارے میں سب سے پریشان کُن خبر یہ تھی کہ رواں ماہ جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کے 17 اضلاع میں سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔ بلوچستان کے 10 اضلاع میں سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی۔
وائرس زدہ اضلاع میں کوئٹہ ، خضدار، لسبیلہ ،نوشکی، بارکھان ،مستونگ ، دکی ، قلعہ سیف اللہ ،کیچ اور سِبی شامل ہیں۔ پنجاب میں لاہور،رحیم یار خان، بہاولپور، گوجرانوالہ اور ڈی جی خان جبکہ خیبر پختونخوا کے اضلاع لکی مروت میں وائرس موجود تھا اور سب سے اہم انکشاف یہ کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ملحق کچی آبادیوں میں بھی سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔
پولیو ویکسین سرٹیفکیٹ کے بغیر سعودیہ میں مسافروں کا داخلہ بند
پاکستان میں پولیو وائرس کی واپسی ہمارے نظام صحت اور دنیا بھر میں 36 برس سے جاری اس بیماری کیخلاف جنگ کے بارے میں سنجیدہ سوالات اُٹھانے کے لیے کافی ہے۔ ماضی میں اگرچہ ہمارے ارباب اختیار یہ اعلان کرنے کے قریب قریب پہنچ کر ہمیشہ رک جاتے رہے ہیں کہ پاکستان پولیو فری ملک بن چکا ہے لیکن آج تک ہم اس خوفناک وائرس سے پوری طرح جان نہیں چھڑا سکے۔
مختلف ادوار میں برسراقتدار حکومتوں کو عام طور پر اس مرض کے خلاف جنگ میں سنجیدہ پایا گیا لیکن پھر بھی یہ جنگ مکمل طور پر جیت نہیں سکے ہیں۔ یہ ایک اہم ترین سوال ہے؟
2024 میں اسلام آباد سے ایک ، بلوچستان میں 27 ، سندھ 19 ، پنجاب میں ایک اور خیبر پختونخوا میں 20 پولیوکے کیسز سامنے آئے تھے، 2015 سے 2024 تک 420 بچے پولیو کے موذی وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا 212 بچوں کے ساتھ سرفہرست جبکہ سندھ 95 پولیو وائرس کے کیسوں کے ساتھ دوسرے نمبرہے۔
پچھلے نوسال کے دوران بلوچستان میں 82 بچے ، پنجاب میں 32 اور اسلام آباد میں ایک پولیو کیس کی تشخیص ہوئی ہے ۔
اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں 54 بچے پولیو کا شکار ہوئے، 2016 میں یہ تعداد کم ہو کر20 بچے اس وائرس کا شکار ہوئے۔ 2017 میں 8 ، 2018 میں 12 بچے وائرس کا شکار ہوئے، 2019 میں پولیو کے شکار بچوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور پچھلے کئی سالوں کی نسبت ریکارڈ 147 بچے پولیو مرض کا شکار ہوئے۔
2020 میں 84 بچے ، 2021 میں ایک ، 2022 میں 20 ، 2023 میں 6 جبکہ 2024 میں 69 بچے وائرس کا نشانہ بنے۔
پولیو کو ترقی پذیر ممالک میں ایک بڑی پریشانی کے طور پر تسلیم ہونے میں تھوڑا زیادہ وقت لگا۔ 1970 کی دہائی میں لیمی نیس سروے کے دوران یہ بیماری ترقی پذیر ممالک میں بھی موجود پائی گئی۔ اس کے نتیجے میں، 1970 کی دہائی میں روٹین امیونائزیشن کو عالمی سطح پر قومی امیونائزیشن پروگراموں کے حصے کے طور پر متعارف کرایا گیا، جس سے کئی ترقی پذیر ممالک میں اس بیماری کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی۔
پولیو کیخلاف جنگ میں اب تک ایک سو زائد پولیو ورکزاور سکیورٹی اہلکار اپنی جانیں بھی قربان کر چکے ہیں، لگ بھگ 51 پولیو اہلکاراور سکیورٹی پر مامور اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کےمطابق اب پاکستان میں 300 سے زائد ایسے دیہات ہیں جن میں زیادہ تر کا تعلق بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے ہے جہاں بچوں کو باقاعدگی سے پولیو کے قطرے نہیں پلائے جا سکے ، اس کی ذمہ داری کا تعین کرنا ابھی باقی ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ کسی کو سزا بھی نہیں دی گئی شاید اسکی وجوہات قانونی پچیدگیاں نہیں بلکہ اسکا تعلق لوگوں کی فرسودہ سماجی من گھڑت کہانیاں بتائی جاتی ہیں۔
پاکستان میں جولائی 2012 سے اگست 2021 کے درمیان پولیو ورکرز، پولیس اہلکاروں اور ویکسی نیشن کی کوششوں میں شامل دیگر افراد کے خلاف متعدد تشویشناک واقعات پیش آ چکے ہیں، جولائی 2012 میں اقوام متحدہ کے ایک غیر ملکی ڈاکٹر کو زخمی اور ایک مقامی ڈاکٹر کو کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا۔
کراچی، پولیو مہم میں غفلت اور لاپروائی کا الزام، 7 آفیسر معطل
دسمبر 2012 میں کراچی اور پشاور میں متعدد حملوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ۔ 2013 میں بھی حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جس میں صوابی، پشاور اور خیبر میں ورکروں اور پولیس اہلکاروں کو قتل یا زخمی کیا گیا ہے۔ فروری 2013 میں پورے ملک میں اٹھارہ ورکرز اور ایک پولیس اہلکار کو قتل کر دیا گیا تھا۔
16 جون 2013 کو صوابی میں دو پولیو رضا کاروں کو قتل کیا گیا تھا۔ 2014 تک تشدد کا سلسلہ جاری رہا، خیبر میں پولیو ویکسی نیشن کرنے والے گیارہ اساتذہ کو اغوا کیا گیا۔ فروری 2015 میں جیکب آباد میں پولیو ٹیم کے دو ارکان زخمی ہوئے، مارچ 2015 کو مانسہرہ میں دو خواتین پولیو ورکرزکو قتل کیا گیا۔ 2016 اور 2017 میں بھی کراچی، کوئٹہ، لاہور اورصوابی میں ہراسانی، مار پیٹ اور حتیٰ کہ ورکروں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ 2018 اور 2019 میں بھی پولیو ورکرز اور سکیورٹی اہلکاروں پر متعدد حملے ہوئے تھے۔
پولیو کے حوالے سے وزیراعظم کی مشیر عائشہ رضا فاروق دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کرتی ہیں ، انسداد پولیو کی مہم کے علاوہ عائشہ رضا فاروق نیشنل کمیشن فار چائلڈ رائٹس کی بھی سربراہ ہیں لیکن اِن کے پاس پولیو کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش پر موقف دینے کے لیے وقت نہیں۔ ہم انویسٹی گیٹس کی ٹیم نے عائشہ رضا فاروق سے موقف کے لیے رابطہ کیا لیکن اُن کے پاس وقت نہیں تھا۔
سابق ڈی جی صحت پنجاب ڈاکٹرمختار حسین سید کا کہنا ہے کہ پولیو اگرچہ پاکستان کیلیے چیلنج بن چکا ہے لیکن اگر انتظامی امور کو محنت اور توجہ سے چلایا جائے تو پولیو سے چھٹکارا سو فیصد ممکن ہے، کچھ علاقوں میں دہشتگردی اورامن و امان کی بگڑتی صورتحال بھی پولیو کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
پولیو وائرس کا تیزی کے ساتھ پھیلائو ہمارے محکمہ صحت کی منصوبہ بندی اور خاص طور پرمحکمہ ماحولیات کی کارکردگی پر بھی بہت سے سوالات اُٹھاتا ہے۔ اگر ہم پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں کر پاتے تو مستقبل قریب میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بھی بعض پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے خاص طور پر بیرون ملک سفر کرنے والوں کو پریشانی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
