حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ختم ہو گیا ، پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات پر حکومت کمیٹی 7 دن کے اندر موقف پیش کرے گی۔
حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ایک گھنٹہ 40 منٹ جاری رہا ، حکومتی کمیٹی میں عرفان صدیقی، رانا ثنا اللہ، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، علی امین گنڈا پور، علامہ راجہ ناصر عباس اور صاحبزادہ حامد رضا شامل تھے۔
190 ملین پاؤنڈ کے فیصلے کا مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں، بیرسٹر گوہر
ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے تحریری مطالبات کا مسودہ پیش کر دیا جس میں بانی پی ٹی آئی اور دیگر اسیران کی رہائی کے علاوہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سے مذکرات کیلئے اپوزیشن لیڈر عمرایوب کے لیٹر پیڈ پر ڈرافٹ تیار کیا۔ پی ٹی آئی نے چارٹر آف ڈیمانڈ میں کمیشن کے ٹی او آرز بھی تجویز کر دیئے۔
بیرسٹر گوہر کی پشاور میں اہم شخصیت سے ملاقات ، اگلے تین روز اہم
ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر چمبر میں پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین سے دستخط کرائے گئے، تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی مطالباتی ڈرافٹ پر دستخط کئے تاہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے دستخط چارٹر آف ڈیمانڈ پر باقی ہیں۔
اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ مذاکراتی عمل کو جاری رکھیں گے ، دونوں جانب سے بہتری کی کوششیں جاری ہیں۔ امید ہے مذاکراتی عمل آگے بڑھے گا۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر مجھ پر بیجا تنقید کی جا رہی ہے، ایاز صادق
اسپیکر نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں پید اہوئیں، تاثر دیا گیا کہ شاید میں کردار ادا نہیں کر رہا، خو ش اسلوبی سے نیک کام سرانجام دینے کی کوشش ہو رہی ہے۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق حکومتی کمیٹی 7 دن میں موقف پیش کرے گی، حکومتی کمیٹی نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے آزادانہ ملاقات کی یقین دہانی کرائی۔
